تہران :ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر عمل نہیں کرتا۔
امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہی کرنے والے قالیباف نے تسلیم کیا کہ ’جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت سے حاصل ہونے والے موقع نے ایران کی معاشی مزاحمت بڑھانے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔‘
’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، منجمد اثاثے جاری نہیں کیے جاتے، تیل پر پابندیاں نہیں اٹھائی جاتیں، تمام محاذوں پر دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور مفاہمتی یادداشت کی دیگر شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔‘
گذشتہ روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے نائب سربراہ یداللہ جوانی کا کہنا تھا کہ ’جنگ کا خاتمہ اسلام آباد معاہدے کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکی اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔‘
گذشتہ روز اس مفاہمتی یادداشت میں درج 60 روزہ مدت بھی ختم ہو گئی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔
تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نئے مرحلے کی کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد دونوں فریق پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ اس عمل کو عملاً ختم شدہ سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ عبوری معاہدے میں توسیع کے خواہاں نہیں ہیں اور ان کے خیال میں تہران ایسے معاہدے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا جسے وہ ضروری سمجھتے ہیں۔
معاہدہ اسلام آباد کی شرائط پر عمل درآمد تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی ، ایران

