سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو جامع طبی معائنے کیلئے فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔
آج نیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے واضح ہدایات بھی دی ہیں کہ اسپتال میں عمران خان کے طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہمراہ ہوں گے جبکہ اسپتال کے تمام تر اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔
عدالت نے عمران خان کو سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کے علاج کے لیے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق عمران خان آئندہ سماعت تک اسپتال میں ہی مقیم رہیں گے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہوسکے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اسپتال کے ماحول اور امن و امان کی صورتِ حال سے متعلق سخت احکامات جاری کیے ہیں۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتِ حال کسی صورت خراب نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی وہاں کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت ہو گی۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے عام مریض کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور پارٹی رہنما شاہد خٹک نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اسپتال کے باہر کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی وہاں کارکناں کا ہجوم اکٹھا ہوگا۔
سپریم کورٹ نے ان تمام ہدایات پر فوری عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔
قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی بہنوں سے ملاقات بھی نہیں کرائی جارہی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی ڈاکٹروں کی ٹیم نے بھی یہ رائے دی تھی کہ ملاقات ہونی چاہیے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کا مکمل چیک اپ کرایا جائے اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
اس موقع پر جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ملاقات کے بعد باہر آکر بہنیں میڈیا ٹاک نہیں کریں گی؟ اس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کی ہدایت پر گارنٹی دے رہے ہیں کہ بہنوں کی ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی۔
سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان کا تمام میڈیکل ریکارڈ اور ان کی بچوں سے فون پر بات کروانے کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے کیونکہ جو مواد عدالت میں پیش کیا گیا ہے وہ محض ایک سمری ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے اور ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ جب ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔
بچوں اور بہنوں کی ملاقات کے معاملے پر جب ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی اور مزید بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں بہنوں کی چالیس سے زائد ملاقاتیں کرائی گئی ہیں تو اس پر جسٹس شاہد وحید نے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے تو کیا آپ بھی کریں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بہنوں سے ملاقات کروانا کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے اور ریاست کا یہ کام ہرگز نہیں کہ وہ خود قانون کی خلاف ورزی کرے۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر ایک بات طے کر لی جائے کہ تحریک انصاف صحت کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں کرے گی۔ عدالت نے عمران خان کی بہنوں سے ملاقاتوں کا تمام تر ریکارڈ طلب کرتے ہوئے اہم احکامات جاری کردیے ہیں۔
سپریم کورٹ کا عمران خان کو جامع طبی معائنے کیلئے فوری شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم

