تل ابیب/دمشق: اسرائیل نے گزشتہ سال جولائی کے بعد سے شام کے اندر جا کر ایک بڑا فضائی حملہ کیا ہے۔ رات کی تاریکی میں کیے گئے اس آپریشن کے دوران شامی صوبے ادلب کے مشرقی علاقے میں واقع ابو الظہر ایئر بیس کو چار طاقتور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ فوجی اڈہ شامی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے، اور یہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل ہی شام کے جنگی طیاروں (Su-22s) کی جانب سے ملک کے شمالی حصوں میں تربیتی پروازیں انجام دینے کی فوٹیج جاری کی گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ منظم کر رہا ہے، اور ترکیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ تل ابیب کے لیے سخت تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارت کاری کا راستہ اپنانے کے بجائے اسرائیل نے ایک بار پھر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے شام پر فضائی برتری ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نشانہ بننے والا یہ ایئر بیس نہ تو ایران یا حزب اللہ سے وابستہ تھا، نہ ہی یہ کسی فریق کے لیے کوئی عسکری خطرہ بن رہا تھا اور نہ ہی وہاں کوئی اہم یا بھاری تباہ کن ہتھیار موجود تھے۔
اس حملے کے بعد امریکا کو ایک بار پھر خطے میں پیدا ہونے والے ممکنہ سفارتی بحران اور کشیدگی کو سنبھالنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرنا پڑیں گی۔ ترکیہ سمیت خطے کے دیگر ممالک میں یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ خطے میں اب سلامتی کی کوئی موثر رکاوٹ یا اصول باقی نہیں رہے، جو آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
شام پر اسرائیل کے یکے بعد دیگرے 4 فضائی حملے: ادلب کا ابو الظہر ایئر بیس ملیا میٹ، جنگی طیارے ، ہیلی کاپٹر تباہ

