تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کبھی کبھی حالات کے افق پر اٹھنے والا دھواں صرف ایک گھر کی چھت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے شہر، پورے علاقے اور کبھی کبھی پوری نسل کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج جب میں اپنے اردگرد کے حالات، بدلتے ہوئے واقعات اور آنے والی اطلاعات کو دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ایک بے چینی جنم لیتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ہم انجانے میں ایک ایسی آگ کے قریب تو نہیں پہنچ رہے جس کے شعلے کسی ایک فرد، ایک گروہ یا ایک طبقے کو نہیں، بلکہ ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
میں تو دیر بالا کو جلتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔
یہ جملہ کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں، کسی فریق کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی تشویش ہے جو اس دھرتی کا باسی ہے، جس نے اس علاقے کی مٹی میں آنکھ کھولی ہے، جس نے یہاں کے لوگوں کی سادگی، محبت، رواداری اور امن پسندی کو قریب سے دیکھا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے فرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر میرے مضامین، کالموں اور تحریروں کی نشر و اشاعت کے بعد بعض ناعاقبت اندیش عناصر مجھے عجیب و ناقابلِ فہم القابات سے نوازنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی کسی سرکاری ایجنسی کا آلۂ کار قرار دیا جاتا ہے، کبھی کسی اور عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ شاید ان حضرات کے نزدیک امن کی بات کرنا، بدامنی کے خلاف آواز اٹھانا اور اپنے علاقے کے مستقبل کی فکر کرنا کوئی جرم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر امن کی بات کرنے والا کسی کا جاسوس کیسے ہوگیا؟
کیا اپنے گھر کو آگ سے بچانے کی خواہش جاسوسی ہے؟
کیا اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی فکر کسی ایجنسی کی خدمت ہے؟
کیا بارود سے نفرت کرنا کسی دشمن کی حمایت ہے؟
نہیں! ہرگز نہیں۔
ہم اس علاقے کے باسی ہیں، اس ملک کے شہری ہیں اور اس مٹی سے ہماری محبت کسی سند کی محتاج نہیں۔ ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ ہم طالب مخالف نہیں، ہم بدامنی کے مخالف ہیں۔ ہم کسی قوم، جماعت یا گروہ کے دشمن نہیں، ہم اس سوچ کے خلاف ہیں جو بندوق کے زور پر امن، تعلیم، کاروبار، روزگار اور معمول کی زندگی کو یرغمال بنانا چاہتی ہے۔
ہمیں بندوق کی آواز سے زیادہ بچوں کے قہقہے عزیز ہیں۔ ہمیں دھماکوں سے زیادہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے امن کی آواز پسند ہے۔ ہمیں خوف کی فضا سے زیادہ بازاروں کی رونق، سکولوں کی گھنٹیاں، کھیتوں کی ہریالی اور گھروں کے چراغ اچھے لگتے ہیں۔
ہم جاسوس نہیں، امن کے مسافر ہیں۔
اور اگر امن کی خواہش رکھنا جرم ہے تو پھر یہ جرم ہمیں قبول ہے۔
اگر امن کی بات کرنا گناہ ہے تو پھر ہم یہ گناہ بار بار کریں گے۔
اگر اپنے علاقے کو خون، بارود اور خوف سے بچانے کی کوشش کسی کے نزدیک قابلِ اعتراض ہے تو ہمیں اس اعتراض کی بھی پروا نہیں۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جنگ کے شعلے جب بھڑکتے ہیں تو وہ کسی کا مذہب، مسلک، جماعت، قبیلہ یا سیاسی وابستگی نہیں پوچھتے۔ آگ جب پھیلتی ہے تو دروازے سب کے لیے کھول دیتی ہے، مگر واپسی کا راستہ کسی کو نہیں دیتی۔
دوبندو کے واقعے اور اس کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات نے پہلے ہی حساس حالات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہمیں جذبات کے بجائے عقل، اشتعال کے بجائے تدبر اور تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
کیونکہ یہ وقت انگلیاں اٹھانے کا نہیں، انگلیاں تھامنے کا وقت ہے۔
یہ وقت ایک دوسرے کو غدار، ایجنٹ یا دشمن قرار دینے کا نہیں، بلکہ یہ سوچنے کا ہے کہ ہمارے بچوں کا مستقبل کس طرف جا رہا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نفرت کی ایک چنگاری کبھی کبھی پورے جنگل کو جلا دیتی ہے۔ ایک غلط قدم کئی درست قدموں کو بے معنی کر دیتا ہے۔ ایک اشتعال انگیز جملہ کئی برسوں کی محنت سے قائم امن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اور پھر جب آگ بھڑک اٹھتی ہے تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ پہلا ماچس کس نے جلایا تھا۔
اس لیے جو لوگ امن کی آواز بلند کرنے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ انجانے میں ان قوتوں کے لیے راستہ تو ہموار نہیں کر رہے جو ہمارے درمیان فاصلے پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
میرے نزدیک امن کے دشمن وہ نہیں جو امن کی بات کرتے ہیں، بلکہ اصل احتساب ان عناصر کا ہونا چاہیے جو کسی بھی شکل میں بدامنی، خوف، تشدد اور خونریزی کے مفاد میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ دیر بالا میں امن ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ بازار آباد ہوں، سکول کھلے رہیں، مساجد میں سکون ہو، کھیتوں میں فصلیں لہلہائیں، نوجوان روزگار کی تلاش میں دور دراز کے علاقوں کا رخ کرنے کے بجائے اپنے ہی علاقے میں اپنے مستقبل کے خواب دیکھیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ مائیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرتے وقت یہ خوف نہ کریں کہ شاید وہ واپس نہ آئیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچے قلم اور کتاب اٹھائیں، نہ کہ خوف اور بارود کا سایہ۔
دیر بالا نے ماضی میں بھی امن کے قیام کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ یہاں کے عوام نے مشکل ادوار میں صبر، برداشت اور اجتماعی شعور کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمیں اپنے اس اجتماعی کردار کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
بالخصوص اہلِ قلم، صحافی، علما، سیاسی و سماجی کارکن، مشران اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قلم کو آگ بھڑکانے کے لیے نہیں، آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ کیمرہ خوف پھیلانے کے لیے نہیں، حقیقت دکھانے کے لیے ہونا چاہیے۔ منبر نفرت کے لیے نہیں، امن اور بھائی چارے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
ہمیں خبر بھی دینی ہے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔
ہمیں سوال بھی اٹھانے ہیں، مگر شائستگی کے ساتھ۔
ہمیں اختلاف بھی کرنا ہے، مگر دشمنی میں تبدیل کیے بغیر۔
کیونکہ اختلاف معاشرے کو زندہ رکھتا ہے، لیکن نفرت معاشروں کو جلا دیتی ہے۔
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا دیر بالا دینا چاہتے ہیں؟ ایک ایسا دیر بالا جہاں خوف کے سائے ہوں، یا ایسا دیر بالا جہاں بچے بے خوف سکول جائیں، نوجوان کھیل کے میدانوں میں نظر آئیں، بازار رات تک آباد رہیں اور ہر گھر سے مستقبل کی امید کی روشنی پھوٹے؟
میں کسی کے خلاف نہیں۔
میں کسی کا آلۂ کار نہیں۔
میں کسی جنگ کا فریق نہیں۔
میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ میری دھرتی محفوظ رہے، میرے علاقے کے لوگ محفوظ رہیں، میرے ملک کے شہری سکون سے زندگی گزاریں اور ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں۔
اور اگر اس خواہش کا نام جاسوسی ہے تو پھر مجھے اس الزام سے کوئی خوف نہیں۔
لیکن خدارا! وقت کی نزاکت کو سمجھیں۔
جلتی ہوئی آگ کے قریب کھڑے ہوکر ایک دوسرے پر پٹرول پھینکنے سے پہلے ذرا سوچ لیجیے کہ ہوا کا رخ بدلتے دیر نہیں لگتی۔
آئیے، اس جلتی ہوئی آگ پر تیل چھڑکنے کے بجائے پانی ڈالتے ہیں۔
آئیے، نفرت کے بجائے محبت کو راستہ دیتے ہیں۔
آئیے، الزام کے بجائے مکالمہ کرتے ہیں۔
آئیے، بندوق کے بجائے قلم کو طاقت بناتے ہیں۔
آئیے، اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔
کیونکہ اگر آج ہم نے عقل، تدبر اور برداشت کا دامن چھوڑ دیا تو کل شاید ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
اور میں پھر یہی کہوں گا:
میں تو دیر بالا کو جلتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔۔۔
مگر ابھی وقت ہے۔
شعلوں کو بھڑکنے سے پہلے بجھایا جا سکتا ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ ہم آگ کے تماشائی بننے کے بجائے اسے بجھانے والے بن جائیں۔





