لاہور: پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر پنجاب پولیس صوبہ بھر میں مکمل طور پر ہائی الرٹ رہی۔ جشنِ آزادی کے سلسلے میں صوبے بھر میں ہونے والی 300 سے زائد تقریبات کو انتہائی سخت سکیورٹی فراہم کی گئی، جبکہ امن و امان اور ٹریفک کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے 28 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار فرائض انجام دیتے رہے۔
پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں شہید سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نمازِ جنازہ مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی، جس میں کور کمانڈر لاہور، آئی جی پنجاب، اعلیٰ عسکری و سول حکام اور پولیس افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے شہداء کے جسدِ خاکی… pic.twitter.com/vgEas6oVJT
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) August 14, 2026
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے یومِ آزادی کے روز اپنے پیغام میں بتایا کہ پنجاب پولیس نے اس بابرکت دن کا آغاز اپنے 3 نڈر اور جاں نثار جوانوں کی شہادت کے ساتھ کیا ہے، جو ملک و قوم کی حفاظت کی خاطر جانثاری کی ایک اور روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی 1746 لازوال شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ارضِ پاک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں 8 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ دیگر تمام ریجنز بشمول گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر موجود رہے۔
آئی جی پنجاب نے سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی خود نگرانی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور دیگر جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اس کے علاوہ جشنِ آزادی کے نام پر ہلڑ بازی، ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ، سڑکیں بلاک کرنے اور خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر تہذیب کے ساتھ جشن منائیں، کیونکہ یہ دن ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنے اور وطن سے تجدیدِ عہد کا درس دیتا ہے۔

