اسلام آباد: قومی شناختی کارڈ کے نظام میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں تیار کردہ، درآمدی مائیکرو چپ کے بغیر اور کیو آر کوڈ (QR Code) پر مبنی جدید ترین قومی شناختی کارڈ مرحلہ وار جاری کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
نئے شناختی کارڈ کی نمایاں خصوصیات:
پولی کاربونیٹ مٹیریل اور کیو آر کوڈ: نیا کارڈ اعلیٰ معیار کے پولی کاربونیٹ میٹریئل سے ملکی سطح پر تیار کیا گیا ہے، جس میں روایتی درآمدی مائیکرو چپ کی بجائے ایک انتہائی محفوظ کیو آر کوڈ شامل کیا گیا ہے۔
آسان تصدیق: عام اسمارٹ فونز اور ’پاک آئی ڈی‘ موبائل ایپ کے ذریعے اس کیو آر کوڈ کو فوری طور پر اسکین کر کے شناختی کارڈ کی تصدیق کی جا سکے گی۔ کوڈ میں ہولڈر کی تمام ضروری معلومات اور تصویر موجود ہوگی، جس سے ڈیٹا کے اندراج میں انسانی غلطیوں کا امکان ختم ہو جائے گا۔
اداروں کے لیے سافٹ ویئر: نادرا کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں، ہسپتالوں، پاکستان ریلوے، پولیس اور دیگر تمام مجاز اداروں کو کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق کرنے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر فراہم کیا جائے گا۔
خصوصی علامات اور دو لسانی تحریر: کارڈ پر نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج ہوں گے، جبکہ خاندانی نمبر کے علاوہ معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والوں اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے مخصوص نشانات بھی نمایاں ہوں گے۔
نفاذ کا مرحلہ وار پروگرام: جنوری 2027 سے یہ نیا کارڈ این آئی سی او پی (NICOP) اور جووینائل کارڈ سمیت شناختی کارڈز کی تمام اقسام کے لیے جاری کیا جائے گا، اور بعد میں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کو بھی اسی جدید نظام پر منتقل کر دیا جائے گا۔
نادرا نے عوام کو اطمینان دلایا ہے کہ پہلے سے جاری شدہ تمام پرانے شناختی کارڈ اپنی اپنی مقررہ تاریخِ میعاد تک مکمل طور پر کارآمد رہیں گے۔

