سڈنی: فیس بک اور انسٹاگرام کی سرپرست کمپنی ‘میٹا’ (Meta Platforms) نے انکشاف کیا ہے کہ آسٹریلیا میں نوعمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر دنیا کی پہلی سخت ترین پابندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک وہ 16 سال سے کم عمر کے شبہ میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد اکاؤنٹس کو بند کر چکی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر میں پابندی کے نفاذ سے لے کر جون تک مجموعی طور پر 4 لاکھ 62 ہزار انسٹاگرام اور 2 لاکھ 94 ہزار فیس بک مشکوک اکاؤنٹس کو ڈی ایکٹیویٹ کیا جا چکا ہے، جن میں جنوری تک کے اعداد و شمار (3 لاکھ 31 ہزار انسٹاگرام اور 1 لاکھ 73 ہزار فیس بک اکاؤنٹس) بھی شامل ہیں۔
آسٹریلیا نے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے پیشِ نظر 10 دسمبر کو یہ تاریخی قانون نافذ کیا تھا، جس کے تحت دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ میٹا نے بھی اس کی مخالفت کے باوجود تعمیل کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، آسٹریلوی انٹرنیٹ ریگولیٹر اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق قانون کے پہلے تین ماہ کے دوران بھی 10 میں سے 8 سے زائد کم عمر بچے کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا پر موجود رہے، جس پر آسٹریلیا نے پلیٹ فارمز پر پابندی کو جان بوجھ کر ناکام بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
حکومت نے قوانین کی عدم تعمیل پر جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد کو دوگنا کر کے 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 6 کروڑ 97 لاکھ امریکی ڈالر) کر دی ہے اور ریگولیٹر کو دستاویزات طلب کرنے کے وسیع اختیارات دے دیے ہیں۔
اس اہم معاملے پر جمعہ کے روز آسٹریلوی پارلیمنٹ کی ایک خصوصی انکوائری کمیٹی میں میٹا، ٹک ٹاک، گوگل (یوٹیوب) اور اسنیپ چیٹ کے نمائندے پیش ہو کر گواہی دیں گے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے یوزر پروفائلز میں سوشل میڈیا تقریبات یا سکول گریڈز جیسے سیاق و سباق کا جائزہ لے کر کم عمر صارفین کا پتہ لگا رہی ہے اور یہ نفاذ کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔ کمپنی کے مطابق اب ایسے افراد کے لیے بھی دوبارہ نیا اکاؤنٹ بنانے کا آپشن ختم کر دیا گیا ہے جن کے پرانے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا چکے ہیں۔
میٹا نے آسٹریلیا میں 7لاکھ 50 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیوں کئے!

