تہران / اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے مابین دوطرفہ سفارتی، تجارتی اور سیکیورٹی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے تہران میں انتہائی اہم اور فیصلہ کن ملاقاتیں منعقد ہوئی ہیں۔ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی منگل کے روز ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا۔
تہران پہنچنے کے فوراً بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات علاقائی سلامتی کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور تہران سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سیکیورٹی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے دونوں ممالک کے دیرینہ تاریخی رشتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات اٹوٹ اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، اور پاکستان تہران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔
ان اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، بالواسطہ مذاکرات اور اہم بحری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کی تازہ ترین نازک صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اس بحران کو حل کرنے کے لیے پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا انتہائی کلیدی اور جاندار کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی اور قطری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب خطے میں اس اُمید کو زبردست تقویت ملی ہے کہ فریقین کے مابین جلد کوئی ایسا مثبت سمجھوتہ طے پا سکتا ہے جس سے آبنائے ہرمز تک بین الاقوامی دنیا کی تجارتی رسائی بحال ہو سکے
وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات،

