دمشق: شام کی ایک عدالت نے ملک پر طویل عرصے تک فسطائی ہتھکنڈوں سے حکومت کرنے والے سابق صدر بشار الاسد کو اپنے ہی عوام، بالخصوص معصوم بچوں کے قتل، بہیمانہ تشدد اور انسانیت سوز جرائم کے پاداش میں سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔
بشار الاسد نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک شام پر حکمرانی کی، جس کے بعد وہ اپنےاقتدار کا تختہ الٹنے کے نتیجے میں فرار ہو کر روس پناہ لے چکے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں شروع ہونے والی تباہ کن خانہ جنگی کے دوران لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے جبکہ ان کا قائم کردہ جیلوں کا نظام بدترین تشدد اور اجتماعی پھانسیوں کے لیے بدنامِ زمانہ تھا۔
دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت نے بشار الاسد کو ارادہ قتل، وحشیانہ تشدد، من مانی حراست اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا۔ بشار الاسد اور ان کے بھائی مہر الاسد کا یہ ٹرائل ان کی غیر موجودگی (in absentia) میں کیا گیا، اور عدالت نے حکم دیا ہے کہ دونوں کو بین الاقوامی سطح پر قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پیچھا کیا جائے گا۔
9 سابق اہم شخصیات کو بھی سزائے موت: عدالتی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر حکومت کے 9 سابق اہم کارندوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ ان میں بشار الاسد کا چچازاد بھائی عاطف نجیب بھی شامل ہے، جس کی درعا میں کی جانے والی ظالمانہ کارروائیوں نے ہی سنہ 2011 کے عوامی انقلاب کی چنگاری کو بھڑکایا تھا۔
الإعدام لعاطف نجيب حضورياً و8 آخرين فارين يتقدمهم بشار وماهر الأسد لارتكابهم جرائم حرب وقتل وتعذيب وجرائم ضد الإنسانية بحق الشعب السوري.#سانا pic.twitter.com/ehZhnM3oQs
— الوكالة العربية السورية للأنباء – سانا (@Sana__gov) August 11, 2026
اگرچہ اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ یہ سزائے موت عملی طور پر کبھی نافذ کی جا سکے گی، کیونکہ بشار الاسد اس وقت روس میں مقیم ہیں، تاہم شامی عدالت کے اس تاریخی فیصلے نے پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے ۔

