پسرورمحمد اشفاق
تھانہ بڈیانہ یا حوالات کا نیا نظام؟ تھانہ بڈیانہ کی مبینہ کارکردگی نے پولیس کے نظامِ انصاف پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب انکوائری کے لیے آنے والے متعدد سائلین کو انکوائری سننے کے بجائے دفعہ 51 7 کا سہارا دے کر حوالات پہنچا دیا گیامزے کی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ صلح کروانے اور معاملہ ختم کروانے آئے تھے، وہ بھی مبینہ طور پر حوالات کی سیر کر کے واپس گئےیعنی اب تھانے میں شاید نیا اصول چل پڑا ہےشکایت لے کر آؤ → حوالات جاؤصلح کروانے آؤ → حوالات جاؤ
انکوائری کے لیے آؤ → پہلے حوالات، بعد میں انکوائریاگر یہی قانون ہے تو پھر عوام کو تھانے جانے سے پہلے یہ بھی پوچھ لینا چاہیے کہ درخواست لکھوانی ہے یا ضمانت کروانی ہے؟پولیس کا کام شہریوں کو تحفظ دینا اور قانون کے مطابق داد رسی کرنا ہے، ہر آنے والے شخص کو ملزم سمجھ کر حوالات میں ڈال دینا نہیں۔اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک شہری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے تھانے کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوال ہے۔
ڈی پی او سیالکوٹ اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، گزشتہ شب حراست میں لیے گئے افراد کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آخر انکوائری کے لیے آنے والے شہریوں کو کس قانونی بنیاد پر حوالات میں بند کیا گیا؟
وردی عزت کی علامت ہے، اختیار کی بادشاہت کا لائسنس نہیں۔
عوام قانون کی عزت کرتے ہیں،
لیکن قانون کے نام پر مبینہ زیادتی کو خاموشی سے برداشت کرنا بھی عوام کی ذمہ داری نہی۔

