تہران +عمان :آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ طریقے سے دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اس مرحلے پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی فیس عائد کرنے پر غور نہیں کر رہا۔
پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیے جانے سے مشروط ہے۔انہوں نے کہا:جب تک دشمنانہ اقدامات جاری ہیں، اس آبی گزرگاہ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری حالات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ ضروری ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا مرکز سمندری جہاز رانی کے لیے محفوظ راستہ متعین کرنا ہے۔بقائی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش امریکی اور اسرائیلی جارحیت اور ایران کے خلاف خطے میں موجود فوجی اڈوں کے استعمال کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسقط کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے حوالے سے مذاکرات ہموار اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمندری جہاز رانی کے راستے کے نقشے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جبکہ بعض تکنیکی نکات کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ محفوظ آمدورفت کی نگرانی، ماحول کے تحفظ اور سمندری جرائم کی روک تھام کے لیے نئے طریقہ کار قائم کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ جہازوں کو فراہم کی جانے والی سمندری خدمات کے عوض متعلقہ اخراجات اور فیس وصول کی جائے گی۔
ایران گزشتہ کئی روز کے دوران متعدد مرتبہ واضح کر چکا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔
ان مطالبات میں سرفہرست خلاف ورزیوں کا خاتمہ، نقصانات کا ازالہ اور ایران کے گردونواح سے امریکی فوجی دستوں کا انخلا شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
ادھر ایک امریکی عہدیدار نے گزشتہ جمعے کو کہا تھا کہ ایران اور سلطنتِ عمان کے درمیان پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز جلد دوبارہ کھل سکتی ہے۔
اس سے جنگ کے باعث معطل ہونے والی تیل کی برآمدات بحال ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اس وقت ختم کر دے گا جب تجارتی بحری آمدورفت کو بغیر کسی رکاوٹ کے بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایران کیخلاف نہیں ،آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کوئی فیس عائد نہیں ہوگی:ایرانی وزارتِ خارجہ

