رانچی: بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات میں مبینہ دھاندلی، بدعنوانی اور پیپر لیک کے خلاف جاری طلبا کا احتجاج پیر کے روز اس وقت انتہائی شدت اختیار کر گیا جب ہزاروں غصے سے بپھرے ہوئے امیدواروں نے رانچی میں اسمبلی کی جانب تاریخی مارچ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کیا، تاہم طلبا کے جذبے کے سامنے حکومتی رکاوٹیں دَم توڑ گئیں اور وہ متعدد بیریکیڈز کو توڑتے ہوئے اسمبلی کے قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
असंभव को हमारे छात्रों ने संभव कर दिखाया।
अब सरकार की बारी है।कभी सोचा नहीं था कि झारखंड विधानसभा से चंद कदमों की दूरी पर ऐसा नज़ारा देखने को मिलेगा।
शाम 5 बजे करीब 10 हजार छात्र-युवा परिसर में मौजूद हैं। विधानसभा का सत्र आज भी हुआ और दो दिन अभी बाकी हैं।
छात्र अड़ चुके हैं…
— We Are Ranchi (@WeAreRanchi) August 10, 2026
یہ احتجاج ’جے پی ایس سی۔جے ایس ایس سی ریفارمز منچ‘ (JPSC-JSSC Reforms Manch) کی زیر قیادت جاری تحریک کا 17واں دن تھا۔ ریاست بھر کے مختلف اضلاع سے ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے ہزاروں طلبہ رانچی پہنچے۔ پرانے اسمبلی کمپلیکس سے شروع ہونے والے اس مارچ کے شرکا کے ہاتھوں میں ترنگے پرچم اور مطالبات کے پلے کارڈز تھے۔ پولیس کی جانب سے لگائی گئی کم از کم آٹھ سطح کی بیریکیڈنگ کو توڑتے ہوئے طلبا نے مرکزی سڑکوں کے علاوہ پہاڑی اور کچے راستوں سے بھی اسمبلی کا رخ کیا۔ پولیس کی جانب سے پانی کی تیز دھار (واٹر کینن) پھینکے جانے کے باوجود کئی دلیر طلبا پیچھے ہٹنے کے بجائے اس کے سامنے نعرے لگاتے اور رقص کرتے دکھائی دیے۔
रांची प्रोटेस्ट: बैरिकेड हटा छात्र
विधानसभा की ओर बढ़े…Ranchi में Students का विधानसभा की ओर मार्च शुरू हो चुका है. Protest में छात्र बैरिकेड हटाकर Jharkhand Vidhan Sabha की ओर बढ़ गए हैं.
देखिए वीडियो – pic.twitter.com/HmvP3qAFOP
— News Pinch (@TheNewspinch) August 10, 2026
احتجاج کی قیادت کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو پچھلے نو دن سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں۔ طبیعت سخت ناسساز ہونے کے باوجود وہ ایمبولینس کے ذریعے اس مارچ میں شریک ہوئے۔ جگن ناتھ پور مندر کے قریب روکے جانے پر ان کے حامیوں نے انہیں ایک عارضی پالکی پر کندھوں کے اٹھا کر آگے پہنچایا۔ رپورٹس کے مطابق اس نو روزہ بھوک ہڑتال کے دوران ان کا وزن تقریباً 10.5 کلوگرام کم ہو چکا ہے۔
: طلبا کا بنیادی اور دوٹوک مطالبہ ہے کہ تمام بھرتی امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ سی بی آئی (CBI) انکوائری کرائی جائے اور خاص طور پر متنازع ’جے ایس ایس سی۔سی جی ایل 2024‘ (JSSC-CGL 2024) کا امتحان فوراً منسوخ کیا جائے۔ حکومت اور طلبا کے درمیان مذاکرات کے 6 دور ناکام ہو چکے ہیں؛ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے 98 فیصد مطالبات مانتے ہوئے چند امتحانات منسوخ کر دیے ہیں، لیکن طلبا کا کہنا ہے کہ وہ سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس دوران جے پی ایس سی (JPSC) کے تین ارکان کے استعفوں نے معاملے کو مزید گرما دیا ہے۔
اس پورے ہنگامے کے درمیان ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس کے مالیاتی پہلوؤں پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ای سی آئی آر (ECIR) درج کر لی ہے۔ دوسری جانب سیاسی محاذ پر بھی ہلچل مچ گئی ہے جہاں بی جے پی کے 21 ارکانِ اسمبلی سمیت تقریباً 50 رہنماؤں کو وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے پر پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، اور وہ وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رانچی میں سخت حفاظتی انتظامات اور تعلیمی اداروں کی بندش کے باوجود طلبا کا یہ احتجاج تاحال پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔

