سکھر(ڈیزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ )
گاؤں مصری شاہ آر ڈی 86 صالح پٹ کے رہائشی محمد غمن شمبانی اور رانجھن شمبانی نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ علی گوہر خان شمبانی کی مبینہ سازش پر گلاب شمبانی، سخاوت شمبانی، آزاد شمبانی اور اصغر شمبانی ان کی دو ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ افراد مبینہ طور پر ان کی زرعی زمین سے زبردستی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ زمین کے مالکان کی جانب سے راستہ دینے سے انکار پر انہیں مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمین ان کی ملکیت ہے اور وہ کسی بھی غیرقانونی طریقے سے اس پر راستہ بنانے یا قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔محمد غمن شمبانی اور رانجھن شمبانی نے مزید الزام عائد کیا کہ مخالف فریق کی جانب سے انہیں اور ان کے اہلخانہ کو مختلف مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، جس کے باعث وہ اور ان کے اہلخانہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے بلکہ اپنے جائز قانونی حق اور اپنی زرعی زمین کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کر رہے ہیں۔مظاہرین کے مطابق آج مبینہ طور پر رانجھن شمبانی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے حوالے سے پولیس کو شکایت بھی دی گئی، تاہم ان کے مطابق پولیس کی جانب سے ان کی فریاد سننے اور مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔احتجاج کرنے والے محمد غمن شمبانی اور رانجھن شمبانی نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ تشدد کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی دو ایکڑ زرعی زمین کو مبینہ قبضے، زبردستی راستہ نکالنے اور کسی بھی غیرقانونی مداخلت سے محفوظ بنایا جائے، جبکہ زمین کے تنازعے کی بھی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے قانونی اور آئینی راستے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے اپیل کی کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے، فریقین کا مؤقف سن کر زمین کے تنازعے کا قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

