انڈا ہائی کوالٹی پروٹین کے ساتھ کئی ضروری وٹامنز اور منرلز کا اچھا ذریعہ ہے۔ ایک بڑے انڈے میں تقریباً 6 سے 7 گرام پروٹین مل سکتا ہے۔ زیادہ تر صحت مند لوگ ایک پورا انڈا روزانہ متوازن غذا میں شامل کر سکتے ہیں۔ انڈے کی زردی میں بھی کئی ضروری غذائی اجزا ہوتے ہیں، اس لیے اسے بلا وجہ پھینکنا ضروری نہیں ہے۔ ابلا ہوا، پوچ یا کم تیل میں بنایا گیا انڈا بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔ دل کی بیماری یا ہائی ایل ڈی ایل کولیسٹرول والے افراد انڈوں کی مناسب مقدار کے لیے ڈاکٹر یا ڈائٹیشن سے مشورہ کریں۔
انڈا ان چیزوں میں شامل ہے جسے ناشتے سے لے کر لنچ اور ڈنر تک آسانی سے غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ کوئی ابلا ہوا انڈا کھانا پسند کرتا ہے تو کوئی آملیٹ، بھُرجی یا پوچ بنا کر کھاتا ہے۔ خاص طور پر پروٹین کی ضرورت پوری کرنے اور مسلز بنانے والے لوگوں کی غذا میں انڈے اکثر شامل ہوتے ہیں۔ لیکن انڈے کو لے کر ایک سوال ہمیشہ برقرار رہتا ہے کہ آخر ایک دن میں کتنے انڈے کھانے چاہئیں؟ کچھ لوگ روز ایک انڈا کھاتے ہیں تو جم جانے والے کئی لوگ ایک دن میں کئی انڈے کھا لیتے ہیں۔ وہیں کولیسٹرول کے خوف سے کچھ لوگ انڈے کی زردی نکال کر صرف سفید حصہ کھاتے ہیں۔
ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انڈا صرف پروٹین کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس میں وٹامن B12، وٹامن D، سیلینیم، کولین اور کئی دوسرے ضروری غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک بڑے انڈے سے تقریباً 6 سے 7 گرام اچھی کوالٹی کا پروٹین مل سکتا ہے۔ تاہم کتنے انڈے آپ کے لیے درست ہیں، اس کا ایک جواب ہر شخص پر لاگو نہیں ہوتا۔ عمر، صحت، باقی غذا اور جسم کی ضرورت کے مطابق اس کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ آئیے آسان زبان میں سمجھتے ہیں کہ انڈے کھانے سے جسم کو کیا ملتا ہے، کتنے انڈے کھانا مناسب ہو سکتا ہے اور انہیں کھانے کا بہتر طریقہ کیا ہے۔
انڈے کو غذائیت سے بھرپور کیوں کہا جاتا ہے؟ : انڈے میں ہائی کوالٹی پروٹین پایا جاتا ہے اور اس میں تمام نو ضروری امینو ایسڈز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈا کولین، وٹامن D، وٹامن B12، سیلینیم اور صحت مند چکنائی کا بھی اچھا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مناسب مقدار میں انڈے کو متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ انڈے میں موجود پروٹین مسلز کی دیکھ بھال اور جسم کے ٹشوز کی مرمت میں کام آتا ہے۔ وہیں کولین دماغ اور جسم کے کئی ضروری کاموں میں کردار ادا کرتا ہے۔ انڈے کی زردی میں لیوٹین اور زیکسینتھین جیسے غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں آنکھوں کی صحت کے لیے اہم مانا جاتا ہے۔
ایک دن میں کتنے انڈے کھانا درست ہے؟ : اس سوال کا جواب فرد کی صحت اور مکمل غذا پر منحصر ہے۔ زیادہ تر صحت مند لوگوں کے لیے ایک پورا انڈا روزانہ متوازن غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق صحت مند لوگ روزانہ ایک پورا انڈا اپنی صحت مند غذا میں شامل کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف انڈے پر ہی پروٹین کی مکمل ضرورت کے لیے انحصار کیا جائے۔ دال، دودھ، دہی، پنیر، سویا، مچھلی اور پروٹین کے دوسرے ذرائع کو بھی غذا میں جگہ دینا ضروری ہے۔ اس سے جسم کو مختلف طرح کے غذائی اجزا ملتے ہیں۔
بچوں کے لیے کتنے انڈے مناسب ہو سکتے ہیں؟ : بچوں کی نشوونما کے دوران پروٹین کے ساتھ کئی وٹامنز اور منرلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک انڈا ان کی روزانہ غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن مقدار بچے کی عمر، مکمل غذا، الرجی اور صحت کے مطابق طے کی جانی چاہیے۔ بچوں کو انڈا دیتے وقت اسے اچھی طرح پکانا بھی ضروری ہے۔ کچے یا ادھ پکے انڈے سے فوڈ انفیکشن کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کی غذا میں کوئی بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ضرورت کے مطابق ڈاکٹر یا ڈائٹی شن سے مشورہ لیا جا سکتا ہے۔
کیا انڈے کی زردی نکال دینی چاہیے؟ : اکثر لوگ پروٹین کے لیے سفید حصہ کھاتے ہیں اور زردی پھینک دیتے ہیں۔ تاہم زردی میں بھی کئی اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اس میں وٹامن A، D، E اور B12 سمیت کئی غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس لیے صحت مند لوگوں کو بغیر کسی خاص وجہ کے ہر بار زردی نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہاں، اگر ڈاکٹر نے آپ کی کسی صحت کی حالت یا کولیسٹرول کی سطح کو دیکھتے ہوئے زردی محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے تو اسی کے مطابق مقدار رکھنی چاہیے۔ صرف سوشل میڈیا پر دیکھی گئی غذا کو اپنے اوپر لاگو کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔

