اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ سکتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے تمام فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ اسے اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم یتن یاہو ایران کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اب ایران کے خلاف اکیلے فوجی کارروائی کرنے پر غور کر رہا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو لگ رہا ہے کہ امریکہ اب اس کی شرائط کے مطابق اس جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
امریکہ جنگ سے باہر نکلنا چاہتا ہے؟
رپورٹس کے مطابق، امریکہ اب اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی جنرل ڈین کین کا ماننا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو شکست دینا ممکن نہیں ہوگا۔ ایسے میں امریکہ جنگ کو آگے بڑھانے کی بجائے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کو امریکی سفارت کاری سے زیادہ امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ ایران اب تک حملوں کا سامنا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کے خلاف مہم کے باوجود اس کی صورتحال کمزور نہیں ہوئی ہے۔
IDF نے چھٹیاں کیوں منسوخ کیں؟
IDF کی تمام فوجی چھٹیاں منسوخ کرنے کے فیصلے نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل اس سے پہلے بھی ایسا قدم اٹھا چکا ہے۔ 26 فروری کو بھی فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کی گئی تھیں۔ اس کے ٹھیک 48 گھنٹے بعد ایران کے سپریم لیڈر کے کمپلیکس کو نشانہ بنا کر حملے کیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے اب IDF کے اس فیصلے کو ممکنہ بڑے فوجی آپریشن سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، صرف چھٹیاں منسوخ ہونے سے یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے بڑے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے احکامات دیے؟
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایرانی حکومت اور اسلامک ریوولوشنری گارڈ کورپس یعنی IRGC کے سینئر عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔ اگر اسرائیل امریکی حمایت کے بغیر ایران پر حملہ کرتا ہے، تو اس کا براہِ راست مطلب ہوگا کہ ایران کے لیے اسرائیل سب سے بڑا نشانہ بن سکتا ہے۔
ایران نے حیفا اور تل ابیب کو دی وارننگ
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے بڑھائے تو وہ اسرائیل کی حیفا ریفائنری اور تل ابیب کو براہِ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔ سب سے بڑی تشویش اسرائیل کے ایئر ڈیفنس کو لے کر ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے اسرائیل کے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ کافی کم ہو گیا ہے۔ ایسے میں نیا حملہ اسرائیل کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔ ایران اس سے پہلے بھی میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل کے ایئر ڈیفنس کو تباہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
نیتن یاہو کے لیے آخری داؤ کیوں؟
ایران پر حملے کو صرف فوجی نہیں بلکہ نیتن یاہو کی داخلی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے نیتن یاہو کو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کسی بڑی کامیابی کی ضرورت ہے۔ ایسے میں ایران پر حملہ ان کے لیے ایک بڑا سیاسی داؤ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں بڑا خطرہ بھی ہے۔ اگر اسرائیل امریکہ کے بغیر ایران کو فیصلہ کن طور پر شکست نہیں دے پاتا، تو اس سے اس کی فوجی صلاحیت اور حکمت عملی پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
اسی دوران ایران نے امریکہ کے سامنے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے سخت شرائط رکھی ہیں۔ ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستوں میں سے ایک ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکہ کو پہلے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دینے سمیت کئی مطالبات رکھے ہیں۔

