سکھر(سے ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ)
سکھر سندھی ادبی سنگت کی جانب سے ممکنہ نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے خدشے کے خلاف ’’سندھ میری ماں‘‘ کے عنوان سے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سندھی ادبی سنگت کے رہنماؤں، ادیبوں، شاعروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ممکنہ نئے صوبوں کے قیام کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے سندھ کی وحدت اور تاریخی و ثقافتی تشخص کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر سندھی ادبی سنگت کے رہنماؤں غلام رسول گھمرو، ارشاد پیرزادہ، مالک کھوسو، فیض سومرو اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر مارشل لا نافذ کیا گیا ہے، جبکہ اب نئے صوبوں کے قیام کا راگ الاپا جا رہا ہے، جسے وہ سندھ کی تاریخ، ثقافت اور وحدت کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ ایک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی وحدت ہے اور اس کی تقسیم یا صوبے کی حدود میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو سندھ کے عوام قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا ہر فرد اپنی دھرتی کی وحدت اور شناخت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرے گا اور کسی بھی ایسی کوشش کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تمام ایسی کوششوں کو فوری طور پر روکا جائے جو سندھ کی وحدت اور عوام کے جذبات کو متاثر کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی تاریخی شناخت، ثقافت اور وحدت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔احتجاج کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں سندھی ادبی سنگت کے رہنما ارشاد پیرزادہ سمیت دو افراد کو پولیس نے حراست میں لے کر اپنے ساتھ روانہ کر دیا۔پولیس کی جانب سے دو مظاہرین کی گرفتاری کے بعد احتجاج میں مزید شدت پیدا ہوگئی، جبکہ مظاہرین نے پولیس کارروائی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی شرکاء کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

