Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاکستانی طلبا نے عالمی نیوکلئیر سائنس اولمپیاڈ میں تینوں تمغے جیت لئے

      خلامیں اناج اگاکر چین نے کردیا کرشمہ ، زمین سے دور کیسے لہلائی فصل ؟ راز کیا

      گیمرز کے لیے بڑی خوشخبری: ’جی ٹی اے 6‘ کی نئی اور طویل جھلک کب اور کہاں جاری ہوگی؟ پتہ چل گیا

      دنیا کا پہلا ’روبوٹ اسکول‘ کھل گیا: 30 ہیومینائڈ روبوٹس کی پہلی کلاس، سلیبس کیا اور امتحان کیسے ہوگا؟

      آرٹیفیشل انٹیلی جنس عالمی خطرہ: میٹا کے اے آئی ماڈل نے دوسری کمپنی کو ہیک کر لیا!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      کشمیر الیکشن میں دھاندلی ہوئی، نئے صوبے بنانے کے لیے عوام کی رائے لی جائے، مخدوم جمیل الزمان

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد : نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو واضع کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس میں دیگر ملک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
    تینوں ملکوں نے جمعے کو مکہ میں اس اہم معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
    سفارتی حلقے اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی طے پانے والے دفاعی معاہدے کی توسیع قرار دے رہے ہیں۔
    اسحاق ڈار نے آج ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا معاہدہ ’تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔‘
    ان کا کہنا تھا کہ ’معاہدہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد امن و سلامتی سے متعلق مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔‘
    انہوں نے واضع کیا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے درمیان، یا ان کے دیگر ممالک یا تنظیموں کے ساتھ، موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔

    In the light of ongoing discussion and interest surrounding the “Makkah Joint Defence Agreement” (The Makkah Accord) over the past two days, the following context and clarity on this Agreement may be useful for everyone to note:

    • The Makkah Joint Defence Agreement, jointly…

    — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) August 9, 2026


    ’تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر کسی بیرونی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے مطابقت رکھتا ہے۔اسحاق ڈار کے مطابق ’مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔’اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ وسیع تر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہماری جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ خطے کے کسی بھی ایسے ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادگی رکھتا ہو۔
    ’مکہ معاہدہ ہماری خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔
    ’پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
    ’ہم تمام تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور اپنی عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
    مکہ معاہدے کے بارے میں گذشتہ روز ترک وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ یہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے دفاعی معاہدے جیسا ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔
    سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ سعودی عرب میں ایک جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
    نیٹو کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق آرٹیکل 5 کے تحت رکن ممالک اس اصول کے پابند ہیں کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
    نیٹو کے مطابق ایسی صورت میں ہر رکن ملک متاثرہ ملک کی مدد کے لیے ضروری اقدام کرے گا، جس میں مسلح طاقت کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔
    ویب سائٹ پر مزید بتایا گیا کہ یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ 11 ستمبر، 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔
    تاہم اس شق کے تحت ہر رکن ملک کی ردعمل کی نوعیت پہلے سے طے شدہ نہیں، ہر ملک یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ متاثرہ اتحادی کی مدد کے لیے کیا اقدام ضروری سمجھتا ہے۔

    Related Posts

    سندھ کی تقسیم کے خدشے کے خلاف سندھی ادبی سنگت کا احتجاج، دو کارکن گرفتار

    دیہاتی کوسانپ نے ڈس لیا

    ابتسام الحق بطور آفیسر انفورسمنٹ اسٹیشن بھیرہ تعینات

    مقبول خبریں

    کامیڈین کپل شرما کے کینیڈا میں واقع کیفے پر پھر فائرنگ ، اصل وجہ سامنے آگئی !

    بیوی کوقتل،ساس اوربہن کوگولیاں مارکرملزم نے خودکوبھی چھلنی کردیا

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا علامہ اقبال ایئرپورٹ کا سرپرائز وزٹ: مسافر کی شکایت پر ایجنٹ کی گرفتاری کا حکم،

    گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال دوسرے روز میں داخل، حکومت نے مذاکرات کی دعوت دیدی

    قیام پاکستان سے  قبل ڈسٹرکٹ بارسیالکوٹ کے ممبران کی تعداد 200مسلمان صرف پچیس تھے

    بلاگ

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    سرکاری سکولوں کی شاندار کامیابی — ضلع لیہ کے روشن مستقبل کی نوید

    اور:- یہ نمبروں کی دوڑ ، کہیں تعلیم کا زوال تو نہیں

    بیٹی کی ہاتھ میں قرآن اٹھاکرتحفظ کی فریاد،قانون حرکت میں نہ آیا،باپ قتل

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.