رامبن: مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے 1,856 میگاواٹ کے متنازع ساولکوٹ پن بجلی منصوبے کے تکنیکی ٹینڈرز کھول دیے گئے ہیں، بھارتی حکام نے بتایا۔ قومی پن بجلی کارپوریشن (این ایچ پی سی) کی جانب سے تعمیر کیے جانے والا یہ منصوبہ رامبن کے سدھو گاؤں کے قریب مجوزہ ہے اور اسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آنے والے بڑے پن بجلی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔تازہ ترین سرکاری ٹینڈر ریکارڈ میں اس منصوبے کی شناخت ضلع رامبن میں واقع 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو پروجیکٹ کے طور پر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
بھارت کی آبی جارحیت،دریائے چناب پر 1856 میگا واٹ کا ساولکوٹ پراجیکٹ تعمیر کرنیکا اعلان
منصوبے میں 225 میگاواٹ کی آٹھ یونٹس اور 56 میگاواٹ کی ایک اضافی یونٹ شامل ہے، جس سے اس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,856 میگاواٹ بنتی ہے۔ تکنیکی ٹینڈرز کا کھولا جانا منصوبے کے ٹینڈرنگ عمل میں ایک اہم مرحلہ ہے۔
یادرہے عالمی سطح پر عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پرپاکستانی مؤقف انصاف پر مبنی ہے۔عالمی ثالثی عدالت نے پاکستانی مؤقف کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور بھارت سندھ طاس معاہدے پر سفارتی، قانونی اور اخلاقی محاذ پر بھارت مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے۔عالمی عدالت نے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت کے تحت قائم بین الاقوامی معاہدہ ہے، بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان کا موقف انڈس واٹر ٹریٹی کی درست قانونی تشریح اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔عدالت نے بتایا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا، بھارت کو آبی وسائل کا آپریشنل ڈیٹا پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا۔
لیکن پھارت نے پھر بے حسی کا مظاہرہ کرتے عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ اپنے جوتے کی نوک پررکھا ہے اورہٹ دھرمی سے متنازع ساولکوٹ منصوبے کے ٹینڈرز جاری کردئیے ہیں۔
بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

