تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

پہلے کالم کا لنک:
”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“
محکمہ اسکریننگ کے ریکارڈ کو خفیہ رکھے۔ تاہم جن اہلکاروں کے بارے میں ضابطے کے مطابق منفی نتائج سامنے آئیں، انہیں حساس یا فیلڈ پوسٹنگ دینے کے بجائے قانون اور سروس رولز کے مطابق انتظامی کارروائی کی جائے۔ مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ ادارے کی تطہیر اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہونا چاہیے۔ متعدد سینئر پولیس افسران نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت پنجاب یا آئی جی پنجاب بلاامتیاز اسکریننگ کا فیصلہ کریں تو وہ خود سب سے پہلے اپنا ٹیسٹ کرانے کے لیے تیار ہوں گے، تاکہ ثابت ہو کہ احتساب کا آغاز ہمیشہ اوپر سے ہوتا ہے، نیچے سے نہیں۔
ان افسران کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر موجودہ آئی جی پنجاب عبدالکریم یا کوئی بھی پیشہ ور اور بااختیار سربراہ اس پالیسی کو میرٹ، شفافیت اور بلاامتیاز نافذ کرے تو پنجاب پولیس کے اندر ایک حقیقی اصلاحی انقلاب آ سکتا ہے۔ پولیس کسی بھی ریاست کی طاقت نہیں بلکہ اس کا اخلاقی چہرہ ہوتی ہے۔ شہری اپنی جان، مال، عزت اور انصاف کی امید اسی ادارے سے وابستہ کرتے ہیں۔ اگر یہی ادارہ اندر سے کمزور ہو جائے تو اس کا نقصان صرف پولیس کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بعض پولیس افسران کے بارے میں منشیات کے استعمال یا اس سے متعلق تادیبی کارروائیوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ادارے کے اندر احتساب کا نظام مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔ نشے کے خلاف سب سے مؤثر جنگ وہی پولیس لڑ سکتی ہے جو خود ہر قسم کے شبہے سے پاک ہو۔ عوام کو صرف طاقتور پولیس نہیں، بلکہ صاف، شفاف اور ہر لحاظ سے قابلِ اعتماد پولیس درکار ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قانون کی حکمرانی، انصاف کی بالادستی اور پولیس کے وقار کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

