اسلام آباد :پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رجیم چینج تجربے اور ہائبرڈ نظام کی ناکامی کا واضح اعتراف ہے۔ملک میں کسی نئے نظام کی ضرورت نہیں، بلکہ آئین و قانون کی حقیقی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا شفاف انتخابی عمل کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا نفاذ کیا جائے، موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے ارکان کو تبدیل کرکے دیانت دار اور غیرجانبدار افراد تعینات کیے جائیں، آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے تاکہ پاکستانی عوام خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ کس نظام اور کس قیادت کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔عمر ایوب نے مزید کہا بعض لوگ ریاست کی آئینی تعریف کو درست طور پر نہیں سمجھتے اور ایسے اقدامات کرتے ہیں جو ریاست کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہوتے ہیں۔ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 7 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے مراد وفاقی حکومت، پارلیمنٹ ، صوبائی حکومتیں، صوبائی اسمبلیاں اور وہ تمام مقامی یا دیگر قانونی ادارے ہیں جنہیں قانون کے تحت ٹیکس یا محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ دیگر تمام ادارے ریاست کے تحت کام کرنے والے ذرائع یا ادارے ہیں۔ملک کو سیاسی استحکام، آئینی بالادستی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے شفاف جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کی جانب واپس آنا ہوگا۔

