میڈرڈ :اسپین کے زیرِ انتظام شمالی افریقہ میں واقع خودمختار شہر سیوٹا میں تارکین وطن کی غیر معمولی اور اچانک یلغار کے بعد اسپین اور مراکش نے اپنی سرحدوں پر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ اس ہنگامہ خیز صورتحال نے پورے یورپی یونین میں ہلچل مچا دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ہی دن میں ہزاروں افراد نے خشک راستوں اور سمندر کے ذریعے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ ہسپانوی محکمہ قومی سلامتی کی جانب سے ابتدائی طور پر جاری کردہ (بعد میں ہٹائے گئے) اعداد و شمار کے مطابق محض 24 گھنٹوں کے دوران 60 ہزار سے زائد افراد نے غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران سمندر سے کم از کم 32 افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
سیوٹا میں تارکینِ وطن کی اس طوفانی آمد نے یورپ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فرانس نے ہسپانوی سرحد پر سکیورٹی مزید سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ اٹلی نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپین کو یورپی یونین کے ‘شینگن معاہدے’ سے عارضی طور پر معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
سیوٹا کے داخلی راستوں پر مراکش کے سکیورٹی اہلکاروں نے واٹر کینن گاڑیوں کے ساتھ پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں تاکہ غیر قانونی داخلے کی کوششوں کو روکا جا سکے جبکہ جھڑپوں کے دوران ایک بس اور سات گاڑیاں نذر آتش بھی کی گئیں۔ سرحدی شہر ‘فنیدق’ میں اب بھی ہزاروں افراد موجود ہیں جو تیراکی یا دوسرے خطرناک راستوں سے داخلے کی تاک میں ہیں۔
صورتحال کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز وزیر داخلہ کے ہمراہ فوری طور پر سیوٹا کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ ہسپانوی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد واپس بھیجا جائے گا، جبکہ پولیس یونین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں عملے کی کمی کے باعث اتنے بڑے ہجوم کو روکنا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔
یورپ میں کھلبلی: 60 ہزار تارکین وطن اسپین داخل، 32 لاشیں برآمد، فرانس ،اٹلی کی وارننگ!

