واشنگتن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن میں قائم امریکی اڈوں پر ہونے والے میزائل حملے کے بعد امریکہ ایران کو ’بہت سخت جواب‘ دے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ہم انھیں سخت جواب دیں گے۔ انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس موقع پر انتہائی سخت سفارتی و عسکری زبان کا استعمال کیا۔
فاکس نیوز کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے اندر ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروہوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب نے جو مشترکہ فضائی حملے کیے ہیں، وہ عراقی حکومت کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہ کر عمل میں لائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے چند گھنٹے قبل اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ملک کی فضائی دفاعی فورسز نے ایران کی جانب سے داغے جانے والے پانچ میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا ہے۔
یہ اہم اعلان امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے اس دعوے کے فورا بعد سامنے آیا تھا جس میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایران کی سمت سے اردن کی حدود میں آنے والے تمام میزائلوں کو بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے روک کر فضا میں ہی ملیا میٹ کر دیا گیا تھا۔ اس کشیدہ صورتحال کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر عسکری محاذ آرائی کا خطرہ شدیدتر ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی: "انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی!”

