نئی دہلی:بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (لوک سبھا) نے امتحانی پیپرز لیک کرنے والے عناصر کے خلاف سزاؤں کو انتہائی سخت بنانے والا نیا بل منظور کر لیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت ملک بھر کے نوجوانوں کے شدید احتجاج اور مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا
युवाओं के भविष्य की सुरक्षा, सुशासन का संकल्प…
लोकसभा में एंटी पेपर लीक बिल (सार्वजनिक परीक्षा (अनुचित साधनों की रोकथाम) संशोधन विधेयक, 2026) का पारित होना परीक्षा व्यवस्था में पारदर्शिता, निष्पक्षता और जवाबदेही सुनिश्चित करने की दिशा में एक निर्णायक कदम है। pic.twitter.com/o3E0LiPuyk
— Dharmendrasinh M. Jadeja (@hakubhajamnagar) July 29, 2026
اس نئی قانون سازی کے تحت پیپر لیک کرنے یا اس میں ملوث پائے جانے والے افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ قید کی سزا کو دوگنا کر کے 10 سال کر دیا گیا ہے، جبکہ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ رقم بڑھا کر 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 83 کروڑ بھارتی روپے) سے زائد کر دی گئی ہے
بھارتی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق قانون سازوں نے گھنٹوں جاری رہنے والے ایک ہنگامہ خیز مباحثے کے بعد زبانی ووٹنگ کے ذریعے اس بل کی منظوری دی ہے ۔ اب یہ بل منظوری کے لیے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) میں پیش کیا جائے گا
یادرہےبھارتی حکومت کی جانب سے بار بار کی جانے والی کارروائیوں کے باوجود قومی اور ریاستی سطح کے امتحانات میں پیپر لیک ہونے کا مسئلہ مستقل دردِ سر بنا رہا ہے۔ نئی دہلی میں 20 جولائی کو اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ اور پرتشدد ہو گئی تھی جب جنتر منتر کے مقام پر ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی

