اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی (2027-2030) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
The selection of intending pilgrims under the Hajj 2027-2030 Policy will be made on first-come, first-served basis@MORAisbOfficial #RadioPakistan #News https://t.co/SfsLqOAZE7 pic.twitter.com/BRvfy9x8d3
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 29, 2026
اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد عازمینِ حج کے لیے ایک شفاف، ڈیجیٹل حکمرانی پر مبنی نظام، کڑی احتساب، میرٹ اور بہترین انتظامی سہولیات کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر زور دیا کہ "یہ محض ایک پالیسی نہیں بلکہ حج انتظامات میں بنیادی اور دیرپا اصلاحات کا آغاز ہے۔”
چار سالہ رجسٹریشن اور انتظار فہرست کا نیا نظام:
نئی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ عازمینِ حج کو چار سالہ رجسٹریشن اور انتظار فہرست کے نظام کے ذریعے پیشگی اپنی پسند کے حج سال کے انتخاب کی شاندار سہولت فراہم کی گئی ہے۔ عازمین رجسٹریشن کے وقت متوقع حج اخراجات کا تقریباً 10 فیصد جمع کرا کر اپنے پسندیدہ سال کے لیے اندراج کرا سکیں گے۔ عازمین کا انتخاب مکمل طور پر شفاف ڈیجیٹل انتظار فہرست کے تحت ”پہلے آئیے، پہلے پائیے“ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس فریم ورک کے تحت رہائش، ٹرانسپورٹ، خوراک، فضائی سفر اور کارگو سروسز کے لیے تین سے چار سالہ طویل مدتی معاہدے کیے جا سکیں گے، جس سے نہ صرف سہولیات کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ مجموعی اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ اس کے علاوہ، حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر جمع شدہ واجبات میں سے کوئی رقم بچ جاتی ہے تو وہ فوری طور پر عازمین کو واپس کر دی جائے گی۔
کوٹا سسٹم اور حکومتی کردار:
سال 2027 سے 2030 تک سرکاری اور نجی حج اسکیموں کا کوٹا بالترتیب 60 فیصد اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، تاہم وفاقی کابینہ اس میں تبدیلی کی مجاز ہوگی۔ حکومت بتدریج حج انتظامات براہِ راست چلانے کے بجائے ایک ریگولیٹر، نگران اور معیار کو یقینی بنانے والے ادارے کا کردار ادا کرے گی، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور شکایات کا ازالہ:
وزیرِ مذہبی امور نے واضح کیا کہ رجسٹریشن سے لے کر شکایات کے ازالے اور حج کے بعد کے جائزے تک کے تمام مراحل مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ تمام نجی حج کمپنیاں پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (پی ایچ ایم پی) استعمال کرنے کی پابند ہوں گی، اور تمام مالی ادائیگیاں صرف حکومت کے مقرر کردہ بینکنگ چینلز کے ذریعے کی جائیں گی۔ نجی کمپنیوں کی رجسٹریشن اب صرف کوٹے کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی کارکردگی اور سروس کے معیار پر جانچی جائے گی۔
ڈیجیٹل کمپلینٹ مینجمینٹ سسٹم:
عازمین کی شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل کمپلینٹ مینجمینٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سرکاری اور نجی دونوں انتظامات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد تھرڈ پارٹی ادارے کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
تربیت، حج پروٹیکٹر اور ہنگامی تیاریاں:
عازمینِ حج کی تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے جس میں مناسکِ حج، موبائل ایپلی کیشنز، صحت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت شامل ہے۔ دورانِ حج وفات، حادثات یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے حج پروٹیکٹر اسکیم جاری رہے گی، جبکہ ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے لیے ایک خصوصی ایمرجنسی رسپانس ٹیم بھی قائم کی جا رہی ہے۔
سردار محمد یوسف نے امید ظاہر کی کہ سعودی وژن 2030 اور عالمی معیارات کے مطابق مرتب کی گئی یہ چار سالہ پالیسی آنے والے برسوں کی بہترین منصوبہ بندی کو یقینی بنائے گی اور لاکھوں عازمین کے اعتماد کو مزید تقویت دے گی۔

