اٹلی کے شہر باری سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان ایمانوئیل نے پشاور کی سیاحت کرنے کے بعد اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے اور اپنا نیا نام محمد خلیل رکھا ہے۔
اردو نیوز کی اس رپورٹ کے مطابق اس کہانی کا آغاز نومبر 2025 میں ایک واٹس ایپ پیغام سے ہوا، جب پشاور کے ٹورسٹ گائیڈ شاہد علی خان کو اٹلی سے ایک نوجوان نے لکھا کہ انہوں نے انسٹاگرام پر ان کا پیج دیکھا ہے اور دوستوں سے بھی ان کے بارے میں سنا ہے، اور وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ 23 اور 24 نومبر کو پشاور آنا چاہتے ہیں۔ طالب علم ہونے کی وجہ سے شاہد علی خان نے ان سے معمول سے کم معاوضہ یعنی صرف 80 ڈالر لیا جس میں مختلف تاریخی مقامات کی ٹکٹیں، فوٹوگرافی سروس اور دیگر انتظامات بھی شامل تھے۔
پشاور پہنچنے کے بعد دونوں غیر ملکی نوجوانوں نے شہر کو اس کے لوگوں کے ذریعے جاننے کی کوشش کی۔ شاہد علی خان انہیں والڈ سٹی، قصہ خوانی بازار، قہوہ خانوں اور روایتی بازاروں میں لے گئے جہاں انہوں نے ان غیر ملکی سیاحوں کو پشاوری چپل، پکول اور دیگر ثقافتی ملبوسات بطور تحفہ پیش کیے۔ یہ سیاح پورا راستہ مقامی لوگوں سے ملتے، گفتگو کرتے اور ان کی روزمرہ زندگی کا قریب سے مشاہدہ کرتے رہے۔ طالب علم ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ گفتگو کا انداز بھی انتہائی دوستانہ اور بے تکلفانہ تھا، اور ایک موقع پر انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں تو یہاں بڑا پروٹوکول مل رہا ہے۔
اس دورے کا ایک اہم پڑاؤ مسجد مہابت خان بھی تھا، جہاں ایمانوئیل نے اس تاریخی مسجد کو قریب سے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اس نے کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے اور کچھ کو قرآن کی تلاوت کرتے دیکھا، اور بعد میں مسجد کے مہمان خانے میں اسلام، تاریخ اور مذہب پر ایک طویل گفتگو ہوئی۔ شاہد علی خان بتاتے ہیں کہ مسجد کے خطیبِ اعلیٰ کے بیٹے نے ان کی خاطر تواضع کی اور مہمانوں نے بہت سے سوالات کیے، وہ صرف سن نہیں رہے تھے بلکہ سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ اس دوران شاہد علی خان نے ایمانوئیل کو پشاوری پکول اور ویسٹ کوٹ بھی تحفہ میں دی۔
مہمانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی مہمان نوازی پہلے کبھی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار بھی ان کے ساتھ انتہائی خوش اسلوبی سے پیش آئے۔ پشاور میں دو دن گزارنے کے بعد یہ نوجوان سیاح اپنے ملک لوٹ گئے، لیکن جب کئی ماہ بعد شاہد علی خان کے فون پر ایک پیغام آیا تو وہ دنگ رہ گئے۔
یہ پیغام اسی نوجوان کا تھا جو ایک سال پہلے پشاور کی گلیوں میں گھومتا رہا تھا، اور اس نے لکھا تھا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ شاہد علی خان یہ پیغام پڑھ کر جذباتی ہوگئے کیونکہ اس نے بتایا کہ پشاور کی ثقافت، وہاں کے لوگوں کے رویے اور مہمان نوازی نے اس کے دل پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ اٹلی واپس جا کر اس نے اسلام کا مزید مطالعہ کیا، مختلف لوگوں سے بات کی اور پھر دائمی سکون پاتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ محمد خلیل (سابقہ نام ایمانوئیل) کے مطابق پشاور کے اس سفر نے ان کے دل میں ایک اہم سوال ضرور پیدا کیا تھا، اگرچہ اس کا جواب تلاش کرنے میں انہیں پورا ایک سال لگ گیا۔
پشاور کی مہمان نوازی نے اٹلی کے 22 سالہ ’ایمانوئیل‘ کو ’محمد خلیل‘ بنا دیا

