نئی دہلی:بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران فاقہ کش مظاہرین میں اپنے ہاتھوں سے کھانا اور پینے کا پانی تقسیم کر کے سوشل میڈیا کے ہر دلعزیز ہیرو بننے والے رضاکار محمد جنید ملک اب خود ایک ہولناک اور پراسرار مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ غازی آباد کے رہائشی اس نوجوان کا دل دہلا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ انہیں دہلی پولیس نے مبینہ طور پر حراست میں لیا، آنکھوں پر پٹی باندھی اور پوری رات نامعلوم مقام پر رکھ کر شدید ذہنی و جسمانی کوفت سے دوچار کیا، جبکہ اگلی صبح انہیں دہلی سے دور اتراکھنڈ کے پہاڑی شہر مسوری میں لاوارث چھوڑ دیا گیا۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹس کے مطابق محمد جنید پچھلے کئی روز سے جنتر منتر پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے جھنڈے تلے جاری طلبہ کے دھرنے میں شریک نوجوانوں کو اپنی مدد آپ کے تحت مفت کھانا اور پانی فراہم کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی خدمت کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد لاکھوں صارفین نے ان کے جذبے کو سراہا تھا اور انہیں انسانیت کا علمبردار قرار دیا تھا۔
تاہم، کچھ روز قبل وہ اچانک منظر عام سے غائب ہو گئے اور بعد میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کر کے تہلکہ مچا دیا۔ اپنے بیان میں محمد جنید نے بتایا کہ جمعے کی رات وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ رام منوہر لوہیا (RML) اسپتال سے باہر نکلے ہی تھے کہ محض 50 سے 60 میٹر کے فاصلے پر چند افراد نے انہیں گھیر لیا۔
محمد جنید نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا، "پہلے تو مجھے خوف ہوا کہ شاید کچھ غنڈے یا شرپسند عناصر ہیں جو ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ ڈرئیے مت، ہم دہلی پولیس سے ہیں۔ اس خوفناک ماحول میں میں ان کے چہرے بھی نہیں دیکھ سکا۔”
متاثرہ رضاکار کے مطابق انہیں زبردستی ایک سفید رنگ کی اسکارپیو گاڑی میں ڈالا گیا اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ پوری رات ان سے ایک ہی گردان دہرائی جاتی رہی اور بار بار پوچھ گچھ کی جاتی رہی کہ "یہ سب فنڈنگ کہاں سے آرہی ہے؟ اتنا بڑا کھانا کھلانے کا انتظام کون کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سا نیٹ ورک ہے؟”
جنید نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو بارہا یہی وضاحت دی کہ یہ کوئی سیاسی فنڈنگ نہیں بلکہ عام لوگوں کے عطیات اور ہمدردوں کی جانب سے بھیجی جانے والی اشیا سے چلنے والا نیکی کا کام ہے، لیکن تفتیش کاروں کا اصرار جاری رہا۔
دوسری جانب، غازی آباد میں مقیم جنید کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے گھر جا کر بھی ہراساں کیا اور پوچھ گچھ کی۔ اس واقعے کے بعد سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، اور ایک ایسے رضاکار کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس ناروا سلوک پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس نے صرف بھوکوں کو کھانا کھلانے کا جرم کیا تھا۔
"فنڈنگ کہاں سے آرہی ہے؟”جنتر منتر پر بھوکے طلبہ کو کھانا کھلانے والےجنید کی دردناک روداد، آنکھوں پر پٹی باندھ کر پوری رات پوچھ گچھ!

