برلن:جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہم جنس پرستوں کی تقریب (پرائیڈ پریڈ) پر گاڑی چڑھا کر اور خنجر سے حملہ کرنے والا مشتبہ شخص پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا گیا ہے۔ برلن پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملزم کو آج مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے برلن کے مغرب میں واقع ایک الاٹمنٹ گارڈن میں تلاش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
برلن، ہم جنس پرستوں کی پریڈ پر وین چڑھا دی گئی: ایک ہلاک، 16 زخمی، مشتبہ ملزم کا تعلق ’اسلامسٹ سرکل‘ سے ہے، پولیس
پولیس نے بتایا کہ جب سکیورٹی فورسز نے اسے گھیرنے کی کوشش کی تو مشتبہ شخص ایک چاقو نما چیز لے کر ایمرجنسی فورسز کی طرف بڑھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے اسپیشل آپریشن کمانڈ کے اہلکاروں نے آتشیں اسلحے کا استعمال کیا۔ برلن فائر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے زخمی حملہ آور کی جان بچانے کے لیے فوری طبی امداد کی کوشش کی گئی لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گیا۔
اس سے قبل جرمن حکام نے اس 21 سالہ مشتبہ حملہ آور کی شناخت عبدالبلوط کے نام سے کی تھی، جو کہ لبنانی نژاد جرمن شہری تھا۔ جرمن وزیرِ داخلہ نے تصدیق کی تھی کہ اس لرزہ خیز حملے میں ایک شخص ہلاک اور 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق حملہ آور نے پہلے ہجوم پر تیز رفتار گاڑی چڑھائی اور پھر گاڑی سے باہر نکل کر چاقو کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد جرمن چانسلر فریڈرش میرس (Friedrich Merz) نے اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ ایسے شدت پسندوں کی ہمارے آزاد معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے، اور جرمنی دہشت گردی کے اس زہر کو اپنے معاشرے پر اثرانداز نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جرمنی اپنی آزادی کا بھرپور دفاع کرے گا

