اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے باضابطہ طور پر وفاقی سطح پر متحرک سیاسی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور اس مقصد کے لیے انہیں وزیراعظم آفس میں باقاعدہ دفتر الاٹ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ وزیراعظم کی جانب سے تاحال حمزہ شہباز کو کوئی رسمی سرکاری عہدہ تفویض نہیں کیا گیا، تاہم انہیں اہم سیاسی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ حمزہ شہباز ارکانِ قومی اسمبلی اور پارٹی ممبران کے ساتھ کوآرڈینیشن کے فرائض انجام دیں گے، اور انہیں خاص طور پر ارکانِ اسمبلی کے حلقوں کے مسائل حل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی اراکینِ اسمبلی اپنے ترقیاتی اور انتخابی حلقوں کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کے خواہشمند ہوتے ہیں، تاہم وزیراعظم کی شدید سرکاری مصروفیات کی وجہ سے ہر ایک کو وقت دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اس خلا کو پر کرنے اور اراکین کے ساتھ رابطے بہتر بنانے کے لیے حمزہ شہباز کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ حمزہ شہباز کے الاٹ کردہ دفتر کے ساتھ ہی ایک خصوصی میٹنگ روم بھی بنایا گیا ہے جہاں وہ پارلیمانی وفود اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک حمزہ شہباز کی وفاقی سیاست میں یہ انٹری حکومتی امور اور پارٹی کی اندرونی صف بندی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں حمزہ شہباز کی انٹری: کیا یہ وفاق میں نئے سیاسی پاور سینٹر کا جنم ہے؟

