مودی سرکار جھک گئی ۔۔۔طلباء کی بڑی جیت ۔۔۔ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفا دیدیا ۔
دھرمیندر پردھان نے احتجاجی طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے کھلے خط میں کہا کہ، میں چار دہائیوں سے طلباء، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے وقف ہوں۔ میں نے ہمیشہ اس بات پر یقین کیا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور بصیرت والا نظام تعلیم ہی ایک مضبوط ملک کی بنیاد ہے۔
انھوں نے لکھا، میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور منصفانہ توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کی تکمیل ہماری تمام سیاسی اور سماجی زندگیوں میں اخلاقی وابستگی رہی ہے۔ میں وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے ان کی دور اندیش قیادت میں ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔
This is democracy. He has resigned. We have two more demands. We won't go like this.
Dharmendra Pradhan has resigned. But the families of the children who committed suicide should receive compensation of one crore rupees. They should get it.
One crore rupees compensation to all… pic.twitter.com/CyhfGDUola— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 25, 2026
پردھان نے کہا کہ، 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے نیٹ یوجی امتحان میں بے ضابطگیوں کا پتہ چلا۔ حکومت ہند نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا، جانچ سی بی آئی کو سونپی، امتحان منسوخ کر دیا، اور امتحان کو دوبارہ ترتیب دیا۔ اگلے سال سے سی بی ٹی (کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ) موڈ میں امتحان منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
انھوں نے کہا، پہلے دن سے، میں نے اس کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی بھی اس صورتحال سے منہ نہیں موڑا۔ میں نے عزم کیا تھا کہ امتحان مافیا کے ہاتھوں کسی بھی ہونہار طالب علم کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالنے دوں گا، کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دوں گا۔ 16 جولائی کو اعلان کردہ نیٹ یوجی کے نتائج تسلی بخش تھے، غریب پس منظر کے بہت سے ہونہار طلباء نے بھی کامیابی حاصل کی۔
پردھان نے زور دے کر کہا کہ، اس دوران بھی ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگوں نے بہت سے طلباء کو گمراہ کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جس سے مجھے بے حد دکھ ہوا۔
پردھان نے کہا، مجھے ہمیشہ ہماری جمہوریت کی طاقت پر پکا یقین رہا ہے اور میں نے اپنے نوجوانوں کی امنگوں، خوابوں اور خواہشات کا دل سے احترام کیا ہے۔ وہ نہ صرف ہندوستان کا مستقبل ہیں بلکہ ایک نئے اور ترقی یافتہ ہندوستان کے علمبردار، معمار بھی ہیں۔انھوں نے کہا کہ، میں گزشتہ 10 دنوں کے واقعات سے دکھی ہوں۔ یہ میرے لیے ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی نوجوان طاقت اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں کو کنفیوژن کے چکر میں نہیں پھنسنے دوں گا، یہ میرا عزم ہے۔پردھان نے مزید کہا کہ، جنتر منتر اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، ملک دشمن طاقتیں اس صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں، ملک کی یکجہتی برقرار رہے، ہندوستان کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ پھنس جائے، ہمارے بچے پڑھائی میں وقت گزاریں، کیریئر بنانے پر توجہ دیں، اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے۔
پردھان نے اپنے کھلے خط میں وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا، میں عزت مآب وزیر اعظم کا ان کی رہنمائی، اعتماد اور مسلسل حمایت کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں وزراء کی کونسل میں اپنے تمام معزز ساتھیوں، وزارت کے عہدیداروں اور عملے اور ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ قوم کی خدمت میری زندگی کی اولین ترجیح ہے۔ میں ہمیشہ اس کے لیے وقف رہوں گا۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے وزیر تعلیم کے استعفے کی تصدیق کی گئی ہے، وزیراعظم نریندر مودی نے دھرمیندر پرادھان کا استعفا قبول بھی کرلیا ہے۔

