جب بھی چینی یا شکر کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے مٹھائی، کیک، چاکلیٹ، آئس کریم یا کولڈ ڈرنک کا خیال آتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ چینی صرف میٹھی چیزوں میں ہی نہیں ہوتی؟ بہت سی ایسی پیک شدہ اور روزمرہ استعمال کی غذائیں ہیں جن کا ذائقہ میٹھا بھی نہیں ہوتا، لیکن ان میں اضافی شکر کی خاصی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔ دراصل ہر قسم کی شکر ایک جیسی نہیں ہوتی۔ پھلوں، دودھ اور دہی جیسی قدرتی غذاؤں میں موجود شکر کو قدرتی شکر کہا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر جسم کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ ان غذاؤں میں فائبر، وٹامنز، معدنیات اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، پروسیس شدہ یا پیک شدہ غذاؤں میں الگ سے شامل کی جانے والی شکر کو ایڈڈ شوگر (Added Sugar) کہا جاتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ مقدار میں اس کا استعمال موٹاپے، ذیابیطس، دل کے امراض اور صحت سے متعلق کئی دیگر مسائل کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
نمکین غذاؤں میں بھی شامل کی جاتی ہے چینی
چینی کا استعمال صرف ذائقہ بڑھانے کے لیے نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے کئی دیگر مقاصد بھی ہوتے ہیں۔ اس سے کھانے کی ساخت بہتر ہوتی ہے، رنگ اور ذائقہ میں نکھار آتا ہے اور کئی مرتبہ یہ محفوظ رکھنے والے جزو کے طور پر کام کرتے ہوئے غذائی اشیا کی مدتِ استعمال بھی بڑھا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاستا سوس، کیچپ اور سلاد ڈریسنگ جیسی نمکین اشیا میں بھی چینی شامل کی جاتی ہے۔ کھانے میں اضافی شکر کی مقدار جاننے کا سب سے آسان طریقہ نیوٹریشن لیبل پڑھنا ہے۔ آج کل زیادہ تر پیک شدہ غذاؤں پر ٹوٹل شوگر اور ایڈڈ شوگر، دونوں کی مقدار درج ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی پیکٹ پر لکھا ہو کہ اس میں 20 گرام ٹوٹل شوگر اور 15 گرام ایڈڈ شوگر ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ صرف 5 گرام شکر قدرتی طور پر موجود ہے، جبکہ باقی 15 گرام الگ سے شامل کی گئی ہے۔
چینی کے کئی نام، لیبل پڑھتے وقت رہیں محتاط
صرف نیوٹریشن لیبل ہی نہیں، بلکہ پیکٹ پر درج اجزا کی فہرست بھی غور سے پڑھنی چاہیے۔ اگر فہرست کے آغاز ہی میں چینی یا اس سے متعلق کوئی نام درج ہو تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ اس پروڈکٹ میں شکر کی مقدار زیادہ ہے۔ چینی ہمیشہ ’شوگر‘ کے نام سے درج نہیں ہوتی۔ کمپنیاں شکر کے لیے کئی مختلف نام استعمال کرتی ہیں، جن میں کین شوگر، کارن سیرپ، ہائی فرکٹوز کارن سیرپ، رائس سیرپ، مولاسس، کیریمل، شہد اور ایگاو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جن الفاظ کے آخر میں ’اوز‘ آتا ہے، جیسے گلوکوز، فرکٹوز، سکروز، ڈیکسٹروز، مالٹوز اور لیکٹوز، وہ بھی کسی نہ کسی شکل میں شکر ہی ہیں۔ اگر کسی پروڈکٹ پر ’گلیزڈ‘، ’کینڈیڈ‘، ’کیریملائزڈ‘ یا ’فراسٹڈ‘ جیسے الفاظ درج ہوں تو اس میں بھی اکثر اضافی شکر شامل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ آج کل بازار میں ’شوگر فری‘ یا ’زیرو شوگر‘ کے نام سے کئی مصنوعات دستیاب ہیں۔ ان میں اکثر سکریولوز، ایسپارٹیم، سیکرین یا اسٹیویا جیسے کم کیلوری والے میٹھے اجزا استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ خون میں شکر کی سطح کو بہت کم متاثر کرتے ہیں اور محدود مقدار میں ان کا استعمال عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی تمام مصنوعات مکمل طور پر صحت بخش ہوتی ہیں۔ کئی شوگر فری پیک شدہ غذاؤں میں ذائقہ اور ساخت برقرار رکھنے کے لیے دیگر پروسیس شدہ اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ کچھ افراد میں ان میٹھے اجزا کے زیادہ استعمال سے پیٹ پھولنے یا اسہال جیسی شکایات بھی ہو سکتی ہیں۔
ان غذاؤں میں بھی ہو سکتی ہے اضافی شکر
کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جن میں لوگ چینی موجود ہونے کی توقع نہیں کرتے، لیکن ان میں اضافی شکر کی خاصی مقدار ہو سکتی ہے۔ کیچپ، باربی کیو سوس، پاستا سوس اور سلاد ڈریسنگ میں اکثر اضافی چینی شامل کی جاتی ہے۔ اسی طرح کئی پروٹین بارز اور فلیورڈ یوگرٹ میں بھی ضرورت سے زیادہ شکر موجود ہوسکتی ہے۔ انہیں خریدتے وقت کوشش کریں کہ ان میں پروٹین کی مقدار شکر سے زیادہ ہو۔ چاکلیٹ، ونیلا یا اسٹرابیری فلیور والے دودھ اور کافی کریمر میں بھی اضافی شکر شامل ہو سکتی ہے۔ گرینولا، انسٹنٹ اوٹ میل اور کئی ناشتے کے سیریلز کو میٹھا بنانے کے لیے چینی یا شہد شامل کیا جاتا ہے۔ ڈبہ بند پھل، جیم، فروٹ پریزرو اور یہاں تک کہ پینٹ بٹر، بادام بٹر یا کاجو بٹر میں بھی بعض اوقات اضافی شکر شامل کی جاتی ہے۔ مشروبات کی بات کریں تو صرف سافٹ ڈرنکس ہی نہیں، بلکہ اسپورٹس ڈرنکس، انرجی ڈرنکس، بوتل بند کافی، آئسڈ ٹی اور کئی پیک شدہ جوس بھی شکر سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔ ان کے بجائے سادہ پانی، بغیر شکر کی چائے یا کافی اور بغیر شکر والا اسپارکلنگ واٹر بہتر متبادل ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کی پسندیدہ غذاؤں میں تھوڑی بہت اضافی شکر موجود ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو انہیں مکمل طور پر ترک کر دینا چاہیے۔ بس ان کے استعمال کی مقدار پر توجہ دیں اور پیک شدہ غذائیں خریدتے وقت نیوٹریشن لیبل ضرور پڑھیں۔

