کیلے فورنیا:لوگ عام طور پر اپنے دل اور گردوں کی صحت کا تو خاص خیال رکھتے ہیں، لیکن جگر کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جگر انسانی جسم کے سب سے اہم اعضاء میں سے ایک ہے، جو خون سے زہریلے مادوں کو فلٹر کرنے، عملِ انہضام میں مدد دینے اور گلوکوز کی سطح کو منظم رکھنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ماہرینِ صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جگر کے مسائل کو بروقت پہچاننا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جگر کی خرابی جسم کے نظام کو تباہ کر سکتی ہے۔ معروف سرجیکل معدے کے ماہر ڈاکٹر ٹی لکشمی کانت کے مطابق، چند ایسی علامات ہیں جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
جگر کی خرابی کی اہم علامات:
ضرورت سے زیادہ یا مسلسل تھکاوٹ: اس قسم کی شدید تھکاوٹ محض روزمرہ کے کام کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ جگر کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
یرقان (آنکھوں اور جلد کا پیلا پن): جگر کے مسائل کا سب سے بڑا اور تسلیم شدہ اشارہ آنکھوں اور جلد کی رنگت کا زرد ہو جانا ہے۔
بھوک میں کمی: طویل عرصے تک کھانے کی خواہش کا غائب رہنا یا بھوک نہ لگنا بھی جگر کے پے در پے نقصانات کا پتہ دیتا ہے۔
پیشاب کے رنگ میں تبدیلی: اگر پیشاب کا رنگ گہرے بھورے یا چائے جیسا ہو جائے تو یہ جسم میں پانی کی کمی یا جگر میں بلیروبن کی زیادتی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
متلی اور الٹی: کھانے کے فوراً بعد متلی یا مسلسل الٹی آنے کی کیفیت بھی جگر کی بیماریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
قبض اور ہاضمے کی خرابی: جگر کا کوئی بھی مسئلہ نظامِ انہضام کو متاثر کرتا ہے، جس سے قبض کی شکایت عام ہو جاتی ہے۔
جلد کے مسائل (خارش اور دانے): ڈاکٹر ٹی لکشمی کانت کے مطابق جلد پر خارش، سرخ دھبے اور دانے جگر کی خرابی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ جب جگر ٹھیک سے کام نہیں کرتا تو زہریلے مادے جلد کے راستے باہر نکلنے لگتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات کے علاوہ پیٹ میں درد، بار بار بخار، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، اسہال اور سانس کی بو بھی جگر کے مسائل سے جڑی ہو سکتی ہیں۔ لہذا، ان علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوری طبی معائنہ کروانا دانشمندی ہے

