Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اے آئی کے میدان میں بازی پلٹ گئی: ایپل کی واپسی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کون؟

      ویوو X300 FE کی پاکستان میں انٹری؛ 5000 نٹس برائٹنس اور 6500mAh بیٹری کے ساتھ نیا ریکارڈ

      ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی

      مصنوعی ذہانت کا مستقبل: پاکستان نے 29 ممالک کے ساتھ مل کر عالمی اتحاد WAICO قائم کر لیا

      فوڈ ڈیلیوری کا نیا بادشاہ کون؟ اوبر اور ڈیلیوری ہیرو کا 99 ممالک میں راج!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایران، امریکہ جنگ اوراسرائیل

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر محمد اشفاق

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

     

     

     

    کیا آپ نے غور کیا ہے کہ امریکہ اب ایران پر پہلے سے زیادہ حملے کر رہا ہے، اس کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے،
    مگر مین اسٹریم عالمی میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، امریکہ۔ ایران جنگ کی خبروں سے اسرائیل کا ذکر دودھ سے مکھی کی طرح غائب ہو چکا ہے۔ دوسری جانب قطر، بطور ثالث، اس جنگ سے پیچھے ہٹ چکا ہے اور عالمی دنیا اس تمام صورتحال پر تقریباً خاموش ہے۔
    پہلے بھی کہا تھا کہ امن معاہدے کے 60 دن پورے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اسرائیل کی طاقتور لابی امن کے ہر عمل کی مکمل مخالفت میں کھڑی ہے، جبکہ دوسری جانب کوئی مضبوط مرکزی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے ایران فیصلہ سازی کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ اگر حالیہ کشیدگی کی بات کریں تو اس کا آغاز اُس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین مختلف ممالک کے تیل بردار جہازوں پر ایران کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ ان جہازوں میں سے ایک سعودی عرب کا پرچم بردار جہاز بھی شامل تھا۔
    ان حملوں کے بعد سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک نے سخت الفاظ میں ایران کی مذمت کی، اور اسی رات امریکہ نے بھی ایران پر فضائی حملہ کر دیا۔ بہرحال، اگلے ہی روز مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کا اعلان ہوا، مگر امن معاہدے کے ایک اہم نکتے پر شدید ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے۔ اس 14 نکاتی معاہدے کی شق نمبر 5 یہ تھی کہ خلیج فارس سے لے کر بحرِ عمان تک ایران تمام کمرشل کنٹینرز اور بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنائے گا۔

    اس کی وجہ یہ تھی کہ اسی راستے میں ایران کی جانب سے نیول مائنز (بحری بارودی سرنگیں) بچھائی گئی تھیں، جبکہ اسی راستے پر ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔ لہٰذا بارودی سرنگوں کا صفایا کرنا اور مستقبل میں ڈرون حملے نہ ہونے دینا ایران کی ذمہ داری تھی۔ 60 روز تک ایران نے اس کی ضمانت دینی تھی، جس کے بعد ایران اور عمان مشترکہ طور پر اس آبی گزرگاہ کے لیے نئی حکمتِ عملی ترتیب دینے والے تھے۔

    مگر یہاں معاملہ کچھ یوں ہوا کہ اس امن معاہدے سے قبل پاسدارانِ انقلاب یہ قانون منظور کروا چکے تھے کہ یہ اب ایران کا علاقہ ہے اور یہاں صرف ایران کی مرضی چلے گی، اور کوئی بھی تیل بردار جہاز ایران کی اجازت کے بغیر یہاں سے نہیں گزر سکے گا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد خلیجی ممالک نے سخت ردِعمل دیا تھا کہ آبنائے ہرمز ہماری معاشی شہ رگ ہے اور اس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قبول نہیں کی جائے گی۔
    یہی وجہ تھی کہ امن معاہدے میں قطر ثالث بن کر سامنے آیا تاکہ آبنائے ہرمز اور عرب ریاستوں کے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے، اور اسی لیے معاہدے میں یہ شق شامل کی گئی کہ اس آبی گزرگاہ کو پُرامن رکھنا ایران کی ذمہ داری ہوگی۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ امن معاہدہ اگرچہ ختم نہیں ہوا، مگر اس کے چیتھڑے ضرور اڑ چکے ہیں۔

    خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے جاری ہیں، سعودی عرب پر حوثی (جنہیں ایرانی پراکسی سمجھا جاتا ہے) حملے کر رہے ہیں، قطر نے ایران کے معاملات سے ہاتھ کھینچ لیا ہے، جبکہ پاکستان خود انتہاپسندوں اور نسل پرست دہشت گردوں کے منظم حملوں میں الجھا ہوا ہے۔ سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک ایران سے مایوس ہو چکے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے اندر موجود مخصوص عناصر اپنی ہی سیاسی قیادت کو بے اثر کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
    حزب اللہ، حماس اور پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ قیادتوں کو بڑی حد تک ختم کیا جا چکا ہے، لبنان بھی بڑی حد تک اسرائیلی اثر و رسوخ میں آ چکا ہے، جبکہ اسرائیل ایک کونے میں کھڑا یہ تمام منظر دیکھتا ہوا قہقہے لگا رہا ھے۔۔

    Related Posts

    تحفظ کی اپیل سے قتل تک ایک جان جو بچائی جا سکتی تھی

    نواب ذوالفقار خان کی قیادت سے بلوچستان میں امن کی بحالی ممکن!

    ’’امریکا ایران جنگ کا نیا مرحلہ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    مقبول خبریں

    فیفا ورلڈ کپ 2026 نے سوشل میڈیا پر 5 نوجوان فٹبالرز کو بخشی بے پناہ شہرت، ایک کھلاڑی کی فالوئنگ دوگنی ہوئی

    ’لارڈس وَنڈے روہت شرما کا آخری میچ نہیں‘، بی سی سی آئی نے ریٹائرمنٹ کی افواہوں پر لگائی لگام

    بالی ووڈ کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ، لگاتار 15 ہٹ فلموں کا ریکارڈ آج بھی برقرار

    روس پر یوکرائنی ڈرون حملوں میں  8 ہلاک، درجنوں زخمی

    خواجہ محمد آصف نے  فیض احمد فیض فلائی اوور کا افتتاح کر دیا

    بلاگ

    تحفظ کی اپیل سے قتل تک ایک جان جو بچائی جا سکتی تھی

    ایران، امریکہ جنگ اوراسرائیل

    نواب ذوالفقار خان کی قیادت سے بلوچستان میں امن کی بحالی ممکن!

    ’’امریکا ایران جنگ کا نیا مرحلہ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.