دبئی:مشرقِ وسطیٰ میں صورتِ حال انتہائی سنگین ہو چکی ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جمعہ کے روز امریکہ نے ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے پلوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر شدید فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے اپنے میزائل حملوں کا دائرہ کار شام تک وسیع کر دیا ہے۔
امریکی افواج نے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر بندر خمیر اور تہران و سیمنان کے اہم تنصیباتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جہاں ایران کا بیلسٹک میزائل اور خلائی پروگرام واقع ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 35 سے زائد اور زخمیوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے تجارتی کارگو کی ترسیل میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور تیل کی بین الاقوامی سپلائی چین شدید تعطل کا شکار ہے۔
ایران نے قطر کے دارالحکومت میں بھی میزائل حملے کیے ہیں، جس کے بعد قطر کے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے بحرین اور کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس حملے میں خاص طور پر 2 عدد ‘ایم 142 ہیمارس’ (M142 HIMARS) لانچرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ‘ایٹیکمز’ (ATACMS) بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ وہی ہارڈ ویئر اور میزائل سسٹم ہے جسے امریکہ کویت سے ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی کے بعد امریکی فوجی اڈے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
🇮🇷🇺🇸🇰🇼 The IRGC says it struck U.S. military infrastructure in Kuwait.
It claims it hit a missile detection and surveillance radar, several weapons depots, 2 M142 HIMARS launchers and a store of ATACMS ballistic missiles held in the depots, setting a base ablaze.
HIMARS is the…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) July 17, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی یہ جنگ اب اپنے خطرناک ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور جہاز رانی کرنے والی کمپنیاں خطرات کے پیشِ نظر اپنے جہازوں کے لوکیشن ڈیوائسز بند کر کے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
اوپن سورس میرین ٹریفک ڈیٹا کےمطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے صرف تین جہاز گذرے ہیں جبکہ جنگ سے قبل یہ تعداد 110 تھی۔


