لاہور:پنجاب بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق رواں ماہ جولائی میں گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے اور درجہ حرارت 52 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہنگامی ہدایات:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ممکنہ ہیٹ ویو اور مون سون کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ رواں برس بارشوں کے کم امکانات کے باعث ہیٹ ویو کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حفاظتی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات پر عملی اقدامات کرتے ہوئے درج ذیل انتظامات مکمل کر لیے ہیں:
ہیٹ ویو کیمپس: صوبے کے حساس اضلاع میں خصوصی ہیٹ ویو کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہریوں کو ٹھنڈا پانی، او آر ایس اور ابتدائی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اسپتالوں میں خصوصی کاؤنٹرز: سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے الگ کاؤنٹرز مختص کیے گئے ہیں اور ہنگامی ادویات کا وافر ذخیرہ یقینی بنایا گیا ہے۔
جنوبی پنجاب کے لیے خصوصی توجہ: تھل اور چولستان سمیت جنوبی پنجاب کے خشک علاقوں میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے واٹر باؤزرز اور فلٹریشن پلانٹس کو فعال کر دیا گیا ہے۔
مانیٹرنگ سسٹم: پی ڈی ایم اے کا 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جبکہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
شہری علاقوں میں درجہ حرارت کم کرنے کے لیے سموگ گنز (Smog Guns) کی تنصیب بھی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ فضا میں نمی کا تناسب برقرار رہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شدید گرمی کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔
حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے اور عوامی مقامات پر سایہ دار جگہوں کا انتظام کیا جائے۔

