Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ٹریفک پولیس اہلکاروں کی چھٹی ؟ چین میں بارش میں ڈیوٹی دیتے روبوٹک اہلکار توجہ کا مرکز

      ایران نے جنگ کے اکھاڑے ، ہتھیار بدل دئیے،سینٹکام کا پہلی ملٹی نیشنل ڈرون ٹاسک فورس ”فالکن اسٹرائک“ کے قیام کا اعلان

      ایک دہائی بعد انسٹاگرام کا لوگو تبدیل: تبدیل شدہ فونٹ پر میمز کی دھوم

      میٹا نے آسٹریلیا میں 7لاکھ 50 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیوں کئے!

      ” چرسی پائلٹ“ کے انکشاف کے بعد ایئر انڈیا کا تمام پائلٹس کے لیے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

      دھونکل کے محلہ موچی پورہ کی گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    دو افراد نے زی ا د ت ی کی، برہنہ کیا گیا،1لاکھ ڈالر دینے پر چھوڑا، مغوی خواتین کا دفعہ 164 کے تحت بیان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور : ڈیفنس میں دو غیرملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متاثرہ خواتین میں سے ایک، آسٹرڈ (Astrid)، نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا، جس میں اس نے اغوا، غیرقانونی حراست، تاوان اور جنسی زیادتی سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
    بیان کے مطابق آسٹرڈ نے بتایا کہ اس کی پہلی ملاقات محمد احمد رضا ڈار سے سنگاپور میں منعقد ہونے والی ایک کرپٹو کرنسی تقریب کے دوران ہوئی تھی، جہاں بعد ازاں محمد احمد رضا ڈار نے اس کی ساتھی اسٹیفنی کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کیے۔آسٹرڈ نے الزام لگایا کہ محمد احمد رضا ڈار بار بار اپنا تعارف پاکستانی وزیر علی ڈار کے بیٹے کے طور پر کراتا رہا، جبکہ اس کے واٹس ایپ پروفائل پر ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ تصویر بھی لگی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اس کا اعتماد مزید مضبوط ہوا اور وہ اس کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے پر آمادہ ہوگئی۔متاثرہ خاتون کے مطابق محمد احمد رضا ڈار نے انہیں ممکنہ سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں کی غرض سے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ اس دعوت کو قبول کرنے کے بعد وہ اور اسٹیفنی پاکستان آئیں، جہاں مبینہ طور پر محمد احمد رضا ڈار نے ان کے ویزوں کا انتظام کیا، اسلام آباد میں قیام کے دوران میزبانی کی اور بعد ازاں انہیں لاہور لے آیا۔بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ لاہور پہنچنے پر دونوں خواتین کو ایک مکان میں لے جایا گیا، جہاں انہیں دو راتوں تک ہاتھ یرغمال رکھا گیا۔
    آسٹرڈ کے مطابق اس دوران محمد احمد رضا ڈار مسلسل ان سے ایک کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھتا رہا اور دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر رقم واپس نہ ملی تو انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ گھر میں موجود متعدد افراد انہیں مسلسل ہراساں کرتے رہے، جبکہ دو نامعلوم ملزمان نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اپنے بیان میں آسٹرڈ نے مبینہ زیادتی کا الزام انہی دو دیگر ملزمان پر عائد کیا ہے اور محمد احمد رضا ڈار پر جنسی زیادتی کا الزام نہیں لگایا، تاہم اس پر اغوا، غیرقانونی حراست اور تاوان طلب کرنے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
    بیان کے مطابق ملزمان نے انہیں برہنہ کر کے شیشے کے ٹکڑوں اور دیگر نوکیلی اشیاء سے جسم کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیں تاکہ وہ رقم کی ادائیگی پر مجبور ہو جائیں۔آسٹرڈ نے بتایا کہ اس نے دورانِ قید متعدد مرتبہ اپنے دوستوں اور کاروباری ساتھیوں سے مالی مدد کے لیے رابطہ کیا، مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ بعد ازاں اسٹیفنی کی والدہ نے اطلاع دی کہ انہوں نے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا انتظام کر لیا ہے۔
    متاثرہ خاتون کے مطابق قید کے آخری روز محمد احمد رضا ڈار نے دونوں خواتین سے کہا کہ وہ آزاد ہیں، ان کے پاسپورٹ واپس کیے اور انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر کہا کہ وہ انہیں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا ہے۔تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ راستے میں محمد احمد رضا ڈار مسلسل نامعلوم افراد سے فون پر بات کرتا رہا۔ آسٹرڈ کا کہنا ہے کہ اس نے فون پر دوسری جانب سے کسی شخص کو یہ کہتے سنا کہ "باس کی ہدایات کچھ اور تھیں”، جس کے بعد اسے خدشہ ہوا کہ انہیں حقیقت میں رہا نہیں کیا جا رہا۔
    بیان کے مطابق کچھ دیر بعد محمد احمد رضا ڈار نے گاڑی دوسری گاڑی کے ساتھ ٹکرا دی اور گاڑی رک گئی ۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹرڈ اور اسٹیفنی گاڑی سے نکل کر سڑک کی جانب بھاگیں اور مدد کے لیے چیخ و پکار شروع کر دی۔خاتون کے مطابق راہگیروں نے ان کی آواز سن کر مدد کی اور ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کو اطلاع دی۔ بعد ازاں مقامی پولیس اور خواتین پولیس اہلکار موقع پر پہنچیں، جس کے بعد دونوں خواتین نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

    Related Posts

    چندی گڑھ: قید پوری کرچکے سکھ قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ

    ٰخاران میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،فتنہ الخوارج کے7 دہشت گرد مارے گئے

    زین حامد کی اداکارہ نمرہ خان کو طلاق

    مقبول خبریں

    چندی گڑھ: قید پوری کرچکے سکھ قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ

    زین حامد کی اداکارہ نمرہ خان کو طلاق

    جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع اٹک کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات

    ڈارون ٹیسٹ: بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے تاریخی شکست دے کر میچ جیت لیا

    بلاگ

    غیرت کے نام پررخصتی کرنے کے بہانے گھرلاکربیٹی کا قتل

    یومِ آزادی کیسے منایا جائے؟

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    ”بیوروکریٹک مارشل لاء “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.