کوہلو، (میر غلام محمد مری کوھلو بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک )
کوہلو شہر اور گردونواح میں محکمہ جنگلات کی مبینہ نااہلی اور غفلت کے باعث قیمتی درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جبکہ محکمہ جنگلات کا ضلعی دفتر اکثر اوقات بند رہتا ہے شہریوں کے مطابق نہ کوئی آفیسر دفتر میں موجود ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی عملہ نظر آتا ہے جس کے باعث محکمہ جنگلات عملی طور پر مکمل طور پر غیر فعال ہوچکا ہے،عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کوہلو کے مختلف علاقوں میں روزانہ سینکڑوں قیمتی درخت کاٹے جارہے ہیں لیکن متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں شہریوں کے مطابق لکڑی مافیا کھلے عام سرگرم ہے اور جنگلاتی وسائل کو بے دردی سے تباہ کیا جارہا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ اور شدید گرمی کی لہر میں مزید شدت پیدا ہورہی ہے،شہریوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کے دفتر کے دروازے اکثر بند رہتے ہیں عوام اپنی شکایات لیکر جاتے ہیں مگر وہاں کوئی ذمہ دار آفیسر موجود نہیں ہوتا لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری تنخواہیں تو باقاعدگی سے وصول کی جارہی ہیں لیکن فرائض کی ادائیگی کہیں نظر نہیں آرہی کوہلو کے عوام نے الزام عائد کیا کہ محکمہ جنگلات مکمل طور پر کرپشن اور غفلت کا شکار ہوچکا ہےعوامی حلقوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں کوہلو کے پہاڑی و سرسبز علاقے بنجر زمین میں تبدیل ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ درخت قدرتی حسن اور ماحول کے تحفظ کیلئے انتہائی ضروری ہیں مگر افسوس کے ساتھ انکی حفاظت کرنے والا ادارہ ہی غائب ہوچکا ہے،عوام نے مطالبہ کیا کہ محکمہ جنگلات کو فعال بنایا جائے روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ وزٹ یقینی بنائے جائیں اور کوہلو میں شجرکاری مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ ماحول کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے،
سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، صوبائی وزیر جنگلات، کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن، برگیڈ کمانڈ کوہلو فاروق اشرف اور ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان مری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ جنگلات کے غیر حاضر آفیسران اور عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ساتھ ہی غیر قانونی لکڑی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری آپریشن کرکے کوہلو کے جنگلات اور قیمتی درختوں کو بچایا جائے،

