اسلام آباد :ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلی جینس آپریشن کیا ہے، جس میں فتنۃ الخوارج کے 29 دہشتگرد مارے گئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں 28 جون کو یہ آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کا بڑا خارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق ان ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق بھارتی پراکسی تنظیم جماعت الاحرار سے تھا جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں مصروف تھی۔
In the aftermath of recent multiple terrorist incidents inside Pakistan against the innocent people of Khyber Pakthunkhwa, Balochistan and Pakistan Rangers (Sindh) Camp, Karachi, a well planned intelligence based ground operation was carried out by security forces along… pic.twitter.com/bIcbXOpWxW
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) June 28, 2026
واضح رہے کہ جماعت الاحرار نے ہفتے کی رات کراچی میں سندھ رینجرز کے ایک کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ تین دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کارروائی میں ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار بھی ہوا تھا جس کا تعلق افغانستان سے ہے۔
Pakistan Armed Forces respond to the terrorist attack in Karachi
⚠️Footage of airstrikes in Paktika, Afghanistan #Pakistan #Rangers #ISPR pic.twitter.com/gLDqnxdgxe
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) June 28, 2026
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے پاک افغان سرحد پر کیے گئے اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی سخت کارروائی کی، جہاں مزید 25 دہشتگرد مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے مراکز اور ٹھکانوں میں چھپا کر رکھا گیا بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حکومت اور افواجِ پاکستان کے پکے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں کہا کہ آپریشن عزم استحکام کے تحت دہشتگردوں اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے یہ آپریشن پوری طاقت سے جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیکیورٹی آپریشن ملک بھر میں تب تک جاری رہیں گے جب تک غیر ملکی پیسے اور باہر کی حمایت سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی تمام وارداتیں ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہو جاتیں اور ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

