( بیورو چیف ٹھٹھہ کلیم اللہ چانڈیو )
مختیارکار اسٹیٹ ہیڈکوارٹر ٹھٹھہ خادم راجڑ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سندھ کی قدیم، تاریخی اور رومانوی کینجھر جھیل کے اطراف واقع سیکڑوں ایکڑ سرکاری زمینوں کو مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے کینجھر کی مچھلی کی طرح نیلام کرنے میں ملوث ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ادیبوں، تاریخ دانوں، آبی ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کینجھر جھیل کے اطراف موجود قیمتی سرکاری پلاٹس اور زمینیں مبینہ طور پر بلڈر مافیا کو غیر شفاف انداز میں فروخت یا نیلام کی جا رہی ہیں۔ عوامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے سندھ کے اس تاریخی اور قدرتی ورثے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مختلف ادیبوں، تاریخ دانوں، پانی کے ماہرین اور سماجي تنظيمن نے اعلان کیا ہے کہ محرم الحرام کے بعد سندھ بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی تاکہ کینجھر جھیل کے اطراف سرکاری زمینوں کی مبینہ غیر قانونی نیلامی اور قبضوں کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔دوسری جانب کینجھر جھیل کے مقامی رہائشیوں نے عوام دوست ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تاریخی اور قدیم کینجھر جھیل کی زمینوں کی کسی بھی قسم کی نیلامی پر فوری پابندی عائد کی جائے۔سماجی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مختیارکار ہیڈکوارٹر اسٹیٹ خادم راجڑ نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیے بغیر اس حساس معاملے پر کوئی رپورٹ جاری کی ہے تو اس کی قانونی حیثیت اور اختیارات کی شفاف وضاحت ضروری ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری زمینوں سے متعلق تمام فیصلے قانون، عدالتی احکامات اور سرکاری پالیسیوں کے مطابق کیے جائیں۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ، بورڈ آف ریونیو اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری نوٹس لینے اور کینجھر جھیل کے اطراف سرکاری زمینوں کے تمام ریکارڈ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے لائی جا سکے اور سندھ کے اس قیمتی تاریخی ورثے کو بلڈر مافیا اور قبضہ گروپوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔عوامی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ کینجھر جھیل سندھ کا قومی اثاثہ ہے اور اس کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

