گوجرانولہ میں ملزمان کو گنجا کرکے ہتھکڑیوں کے ساتھ ویڈیو وائرل کرنے کے خلاف کیس میں عدالت نے گوجرانولہ پولیس کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی ،گوجرانولہ میں ملزمان کو گنجا کرکے ہتھکڑیوں کے ساتھ ویڈیو وائرل کرنے کے خلاف کیس میں عدالت نے گوجرانولہ پولیس کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی
احمد چودھری کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس علی ضیا باجوہ نے ملزمان کے ساتھ پولیس کے رویے کو تشویشناک قرار دے دیا
سینئر صحافی ثاقب بشیر کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ” کسی بھی پولیس افسر کو اختیار نہیں وہ قانون ہاتھ میں لے یا کسی ملزم کی تذلیل کرے پولیس کو اختیار نہیں کسی ملزم کا سر منڈوا دے ، داڑھی کاٹ دے ، یا کوئی اور غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک کرے ایسے واقعات کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانا زیادہ تشویشناک ہے ویڈیو وائرل ہونے سے نہ صرف ملزم کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے بلکہ نظام انصاف پر عوام کا اعتماد بھی کم ہوتا ہے پولیس افسران کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ قانون کے محافظ ہیں پولیس افسران پر لازم ہے کہ وہ صرف اور صرف قانون کے مطابق عمل کریں پولیس کو جو اختیارات دیے گئے وہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر ہی استعمال کر سکتے ہیں پولیس کی جانب سے ہر شہری کی عزت و بنیادی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے گوجرانوالہ پولیس کی رپورٹ کے مطابق 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ ہے ویڈیو میں 9 نظر آرہے ہیں پولیس کی رپورٹ اس وجہ سے غیر تسلی بخش ہے آر پی او دوبارہ تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں "
پولیس ملزمان کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار نہیں رکھ سکتی ، گنجا کرکے ہتھکڑیوں کے ساتھ ویڈیو وائرل کرنے پر لاہور ہائیکورٹ کا اہم حکم

