واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار کی اطلاعات درست ثابت ہوئیں، تو وہ "اسی وقت مذاکرات ختم کر دیں گے۔”
پینسلوینیا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایرانی دعووں کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ جوہری معائنوں کا کوئی شیڈول طے نہیں ہے۔ صدر نے کہا، "وہ (ایران) غلط کہہ رہے ہیں، اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ وہ غلط ہیں۔ ہمارے پاس 100 فیصد یقین دہانی موجود ہے کہ وہ معائنوں کی اجازت دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران ان کے طے کردہ معاہدے سے پیچھے ہٹا تو وہ کسی قسم کے مزید مذاکرات جاری نہیں رکھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری حالیہ مذاکرات کو ایک "حیران کن معاہدہ” (Amazing Deal) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد دنیا کو محفوظ بنانا اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران سمجھداری اور معقولیت کا مظاہرہ کرتا رہا تو یہ معاہدہ قائم رہے گا، بصورت دیگر امریکہ "کام مکمل کرنے” (یعنی فوجی کارروائی کی جانب واپسی) کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم، ایرانی وزارت خارجہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جوہری پروگرام یا بین الاقوامی معائنوں کے حوالے سے کوئی نیا عزم نہیں کیا گیا ہے۔دریں اثنا، آئی اے ای اے (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی کی اولین ترجیح ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا تعین کرنا ہے، جس کے لیے انہیں جلد از جلد تنصیبات تک رسائی درکار ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ایران اور امریکا کے درمیان اس تازہ بیان بازی سے مذاکرات کی کامیابی پر سوالیہ نشان پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کا سخت لہجہ اس بات کا اشارہ ہے کہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد ان کے لیے کسی بھی تصفیے کی بنیادی شرط ہے۔
18 جولائی 2026 کو خطے کے لیے ایک اہم دن قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات میں یہ نئی رکاوٹیں صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ایران کا موقف ہے کہ اس نے ابھی تک کوئی نئی ہامی نہیں بھری، جبکہ وائٹ ہاؤس بضد ہے کہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔
ایران نے جوہری معائنہ کی اجازت نہیں دی تو مذاکرات ختم کر دوں گا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ

