تہران: ایران کے قدامت پسند اخبار ‘خراسان’، جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے قریبی حلقوں میں شمار ہوتا ہے، نے حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں متوقع مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کے دوران امریکی عہدیداران کے ساتھ کسی بھی قسم کی مصافحہ یا مشترکہ تصویر بنوانے سے گریز کریں۔
اخبار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واشنگٹن اس تقریب کے ذریعے ایک ایسی تصویر حاصل کرنا چاہتا ہے جسے وہ سیاسی طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ امکان موجود ہے کہ دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس یا خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوئٹزرلینڈ کا سفر کریں۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں ایرانی وفد کی پروٹوکول ٹیم کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اب سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اخبار کا کہنا تھا، "ایرانی حکام کو امریکیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ‘یادگاری تصویر’ یا صدر ٹرمپ کے ساتھ ہاتھ ملانے کے عمل سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔”
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے کے حوالے سے جہاں ایک طرف سفارتی پیش رفت ہو رہی ہے، وہیں ایران کے اندرونی سیاسی حلقوں میں اس پر شدید بحث جاری ہے۔ ناقدین اور سخت گیر حلقے اس معاہدے کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کے دوستانہ یا علامتی میل ملاپ کو سیاسی طور پر حساس قرار دے رہے ہیں۔
سفارتی محاذ پر نئی کشیدگی: ایرانی حکام کو امریکیوں کے ساتھ مشترکہ ‘فوٹو سیشن’ نہ کرنے کی وارننگ

