Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سونے کی گرتی قیمتیں: پاکستان کے لیے موقع یا خطرے کی گھنٹی؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹرمحمددائود

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    سونا صدیوں سے دولت کا روایتی ذخیرہ رہا ہے۔ لیکن پاکستان میں سونا ایک مالیاتی اثاثے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ثقافتی روایت، عدم استحکام کے خلاف ایک ڈھال، اور بہت سے گھرانوں کے لیے نجی بچت کھاتے کا قریب ترین متبادل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ پر معمول سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    پہلی نظر میں سونے کی قیمتوں میں کمی اچھی خبر محسوس ہوتی ہے۔ کم قیمتیں شادی کی منصوبہ بندی کرنے والے خاندانوں، زیورات خریدنے والوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے پس منظر میں ایک زیادہ پیچیدہ معاشی کہانی موجود ہے جس کے پاکستان کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔
    تاریخی طور پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ جنگوں، سیاسی بحرانوں، افراطِ زر کے خدشات اور مجموعی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار اس زرد دھات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ لیکن حالیہ عرصے میں، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے اور عالمی معیشت کے بارے میں خدشات کے باوجود سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ بظاہر متضاد صورتحال دراصل بدلتے ہوئے عالمی مالیاتی منظرنامے کی عکاس ہے۔
    اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور یہ خدشات ہیں کہ بڑی معیشتوں میں شرحِ سود پہلے کی توقعات سے زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ سونا نہ سود دیتا ہے اور نہ منافع۔ جب سرکاری بانڈز اور دیگر مالیاتی ذرائع زیادہ منافع فراہم کرتے ہیں تو سرمایہ کار سونے سے سرمایہ نکالنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ یوں سونے کو عالمی سرمایہ کے لیے سود دینے والے اثاثوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
    پاکستان کے لیے اس کے اثرات زیورات کی دکانوں اور سونے کے تاجروں سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔
    سب سے پہلے، سونے کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی پاکستان کے درآمدی بل میں کسی حد تک کمی لا سکتی ہے۔ پاکستان بڑی مقدار میں قیمتی دھاتیں درآمد کرتا ہے، لہٰذا عالمی قیمتوں میں کمی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگرچہ اس کا اثر تیل کی قیمتوں میں تبدیلیوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، لیکن بیرونی مالیاتی دباؤ کا سامنا کرنے والے ملک کے لیے ہر ڈالر اہمیت رکھتا ہے۔
    دوسرا، یہ گراوٹ اس سرمایہ کاری کے تصور کے لیے ایک دھچکا ہے جو پاکستانی معاشرے میں گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بہت سے پاکستانی سونے کو مہنگائی اور وقتاً فوقتاً کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف قوتِ خرید کو محفوظ رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھتے رہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ مقامی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے اس تصور کو مزید تقویت دی۔ لیکن حالیہ گراوٹ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سونا یک طرفہ سرمایہ کاری نہیں۔ کسی بھی اثاثہ جاتی طبقے کی طرح اس میں بھی اتار چڑھاؤ، اصلاحی مراحل اور سرمایہ کاروں کے رجحانات میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔
    تیسرا، یہ پیش رفت پاکستان میں مالیاتی خواندگی اور سرمایہ کاری کے تنوع کے حوالے سے وسیع تر سوالات اٹھاتی ہے۔ گھریلو دولت کا بڑا حصہ اب بھی جائیداد، غیر ملکی کرنسی یا سونے کی شکل میں موجود ہے۔ زیادہ تر لوگ متنوع سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو تک رسائی نہیں رکھتے۔ چنانچہ جب کوئی ایک اثاثہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتا ہے تو بہت سے خاندان براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ یہاں سبق یہ نہیں کہ سونے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے ایک وسیع تر سرمایہ کاری پورٹ فولیو کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ دولت کے تحفظ کا واحد ذریعہ۔
    تاہم سونے کی موت کی گھنٹی بجانا قبل از وقت ہوگا۔
    اس دھات کو اب بھی کئی طویل المدتی عوامل کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے مرکزی بینک اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ عالمی قرضوں کی سطح اب بھی ریکارڈ بلندیوں پر ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ ساختی رجحانات سونے کی طلب کے تسلسل کے لیے مثبت ہیں۔ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونے کے کردار کا خاتمہ نہیں، بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے ایک عارضی نظرِ ثانی ہے۔
    پاکستان کے لیے اصل سبق قیاس آرائی نہیں بلکہ حکمتِ عملی ہے۔ ملک کی معاشی کمزوری کا تعلق سونے کی قیمت سے کم اور افراطِ زر کے دباؤ، کرنسی کے عدم استحکام اور بچت کے ناکافی نظام سے زیادہ ہے۔ جب شہری اپنی دولت کے تحفظ کے لیے سونا خریدنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو یہ متبادل مالیاتی ذرائع پر اعتماد کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک مضبوط اور مستحکم معیشت میں دفاعی سرمایہ کاری کے طور پر قیمتی دھاتوں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
    سونے کی حالیہ گراوٹ محض ایک اجناس کی کہانی نہیں۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مالیاتی منڈیوں کی دنیا مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، روایتی مفروضات کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور پاکستان کو ایک زیادہ مضبوط اور لچکدار معاشی ڈھانچے کی تعمیر جاری رکھنی چاہیے۔ اگر آنے والے مہینوں میں سونا اوپر جائے یا نیچے، معاشی تحفظ کا اصل پیمانہ دھات کی ایک اونس کی قیمت نہیں بلکہ ان اداروں کی مضبوطی ہوگی جو قومی خوشحالی کو برقرار رکھتے ہیں۔
    آخرکار، کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے خزانوں میں موجود سونا نہیں بلکہ اس کی معیشت پر اعتماد ہوتا ہے۔

    Related Posts

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    بزمِ سعد شاہوالا جنوبی: ادب کی شمع روشن رکھنے والی ایک توانا آواز

    مقبول خبریں

    عالمی میڈیا میں ہلچل: وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج کا ٹویٹر اکاؤنٹ بحال

    داتا دربار کے باہر پراسرار کار خود بخود اسٹارٹ، ہارن بجنے لگا ،شہریوں کی دوڑیں لگ گئیں!

    سانگھڑ: بلدیہ کی مبینہ نااہلی، کھلے نالے میں گر کر 7 سالہ بچی جاں بحق

    ملتان: ضلعی انتظامیہ اور PHA کا شہر کے غیر فعال پارکوں کی بحالی کا فیصلہ

    سکرنڈ: خاتون کا بھائیوں پر جائیداد پر مبینہ قبضے اور جھوٹے مقدمات کا الزام، اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ

    بلاگ

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    بزمِ سعد شاہوالا جنوبی: ادب کی شمع روشن رکھنے والی ایک توانا آواز

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اچانک ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ

      دیر بالا کو آگ نہیں، امن کی روشنی چاہیے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.