نوشہرہ (انورزیب خان )
خیبر پختونخوا کے بڑے تدریسی و طبی ادارے قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس
نوشہرہ میں اپنے زیرِ علاج شوہر کی تیمارداری کیلئے موجود ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی کوشش کے سنسنی خیز الزامات سامنے آنے کے بعد صوبے بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی وزیر صحت انجینئر میاں خلیق الرحمان خٹک نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو محکمانہ انکوائری جبکہ پولیس کو بلاامتیاز قانونی کارروائی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
تھانہ نوشہرہ کلاں میں درج ایف آئی آر کے مطابق ڈاگ اسماعیل خیل کی رہائشی مسماۃ طاہرہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کے شوہر قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں زیرِ علاج تھے اور وہ ان کی تیمارداری کیلئے ہسپتال میں موجود تھیں۔ خاتون کے مطابق 8 جون کی رات تقریباً 9 بجے وہ اپنے شوہر کیلئے کھانا لینے ہسپتال سے باہر گئیں، تاہم تندور بند ہونے کی وجہ سے بسکٹ خرید کر واپس آتے ہوئے راستہ بھول گئیں۔ اسی دوران انہوں نے ہسپتال کے ایک سیکیورٹی اہلکار سے راستہ پوچھا جس نے مبینہ طور پر مدد کے بہانے انہیں اپنے ساتھ آنے کو کہا اور ہسپتال کے ایک کمرے میں لے گیا۔
مدعیہ کے مطابق اصل خوفناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کمرے میں داخل ہونے کے بعد مذکورہ اہلکار نے مبینہ طور پر کسی شخص کو فون کرکے "کیمرے بند کرنے” کی ہدایت دی۔ ایف آئی آر کے مطابق اس کے بعد ملزم نے زبردستی فحش حرکات شروع کیں، بوس و کنار کیا اور خاتون کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ خاتون کا الزام ہے کہ کچھ ہی دیر بعد مزید دو افراد بھی کمرے میں داخل ہوئے جنہوں نے بھی ان کے ساتھ نازیبا حرکات کیں اور مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی کوشش کی۔
خاتون کے مطابق انہوں نے شدید مزاحمت کی، چیخ و پکار کی اور اپنی جان و عزت بچانے کیلئے بھرپور جدوجہد کی۔ مدعیہ کا کہنا ہے کہ ان کی مزاحمت اور شور شرابے کے باعث ملزمان اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے اور وہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔
پولیس کو دی گئی درخواست میں خاتون نے سیکیورٹی عملے کے تین اہلکاروں عمیر ولد پائیو شاہ سکنہ کھنڈر، ندیم خان ولد خان گل سکنہ کچکول آباد اور عباس ولد فخرالسلام سکنہ کابل ریور کو نامزد کیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔

