سکھر،بیوروچیف محمد قاسم ملک
گورنمنٹ کنٹریکٹر شوکت علی سومرو نے سکھر نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مخالف ٹھیکیدار بشیر مہر اور اس کے بھانجے اظہر مہر پر اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، شوکت علی سومرو کا کہنا تھا کہ بشیر مہر نے گزشتہ تین برسوں کے دوران یونین کونسل تماچا نی اور یونین کونسل نصیر آباد میں تقریباً 10 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے حاصل کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ہی منصوبہ مختلف سرکاری اداروں سے منظور کرا کے دوہری ادائیگیاں وصول کی جاتی ہیں اور متعلقہ افسران اس عمل میں مبینہ طور پر ملی بھگت رکھتے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ فش مارکیٹ، گورنمنٹ سوسائٹی اور جعفری سوسائٹی سمیت مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر رقوم وصول کی گئیں، تاہم زمینی حقائق کے مطابق وہاں کوئی نمایاں کام نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی ویز، پبلک ہیلتھ اور بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بھی مختلف منصوبے حاصل کیے گئے ہیں، پریس کانفرنس کے دوران شوکت علی سومرو نے مزید الزام عائد کیا کہ پرائیویٹ پلاٹوں اور پرائیویٹ سبحان اللہ کالونی میں بھی سرکاری خزانے سے ترقیاتی کام کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحریری شکایت قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھی جمع کرائی گئی، تاہم اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ، نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کرائی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو مبینہ طور پر ملوث ٹھیکیداروں اور سرکاری افسران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، نوٹ: مذکورہ خبر میں شامل الزامات پریس کانفرنس کے دوران شوکت علی سومرو کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی متعلقہ افراد یا اداروں کی جانب سے تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

