لاہور :ماڈل ٹاؤن لاہور میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی، زبردستی اسقاطِ حمل اور بعد ازاں ہلاکت کے ہولناک کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سروسز اسپتال لاہور کی تین خواتین ڈاکٹرز کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، معطل کی جانے والی ڈاکٹرز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منصورہ مرزا،وومن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صباحت،وومن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عائشہ عمر خان شامل ہیں
ذرائع کے مطابق، مذکورہ ڈاکٹرز پر الزام ہے کہ انہوں نے گھریلو ملازمہ کا زبردستی اسقاطِ حمل کروانے میں سہولت کاری کی اور بعد ازاں اس گھناؤنے فعل کے شواہد ضائع کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے تینوں ڈاکٹرز کو فوری طور پر اپنے متعلقہ محکموں کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل شفاف طریقے سے آگے بڑھ سکے۔
واضح رہے کہ اس کیس نے سماجی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی، جس کے بعد پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔
ملازمہ سے زی ادتی و ۃ ل ا ک ت کیس: سروسز اسپتال کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سمیت تین لیڈی ڈاکٹرز کے خلاف بڑا ایکشن

