سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو)
سیالکوٹ کے علاقہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری لائن سے ملحقہ علاقہ بجوات میں دریائے چناب کے کنارے لوگوں میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک گھر کے اندر انتہائی خوفناک اور دیو ہیکل پینتھر سانپ جسے عام طور پر پائتھن یا اژدہا بھی کہا جاتا ہے دیکھا گیا۔لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطرناک سانپ کو زندہ پکڑ لیا۔ کسی جانی نقصان سے محفوظ رہنے کی خاطر لوگوں نے سانپ کو حفاظت کے ساتھ دریائے چناب کی لہروں کے سپرد کر دیا ۔ماہرین کے مطابق یہ سانپ زہریلا تو نہیں ہوتا لیکن اپنی جسامت کے حساب سے جکڑنے کی طاقت کی وجہ سے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ اپنے شکار کو ہڈیوں سمیت نگلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ زیادہ تر مویشیوں پر حملہ کرتا ہے ان مویشیوں میں بھینس، بکری، خرگوش اور چوہے شامل ہیں۔ یہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ بے دھیانی میں چھوٹے بچوں کو بھی نگل سکتا ہے اس لئے دریا کے قریبی علاقوں میں رہنے والوں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔اس نسل کے سانپ زیادہ تر پڑوسی ملک بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں جو سیلابی پانی یا ندی نالوں کے راستے بہتے ہوئے دریائے چناب کے سرحدی علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔لوگوں سے بالخصوص مذکورہ علاقہ کے مکینوں سے محکمہ انہار کے ارباب اختیار نے گزارش کی ہے کہ برسات کے موسم میں اور دریا کے کنارے رہائش پذیر لوگ خاص احتیاط برتیں اور بچوں پر نظر رکھیں۔

