شینزین: چین کی بائیو ٹیک کمپنی ‘لونوی بائیو سائنسز’ (Lonvi Biosciences) نے ایک ایسی انقلابی گولی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا ماننا ہے کہ یہ انسانی عمر کو 150 برس تک بڑھا سکتی ہے۔
تاہم، سائنسی حلقوں نے اس دعوے پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے تیار کردہ اس گولی کا بنیادی جزو ‘پروسیانیڈن سی 1’ (PCC1) نامی مرکب ہے، جو انگور کے بیجوں کے عرق سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گولی جسم میں موجود "زومبی سیلز” (Senescent cells) کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ وہ تباہ حال یا بوڑھے خلیات ہوتے ہیں جو تقسیم ہونا بند کر دیتے ہیں لیکن جسم میں موجود رہ کر سوزش اور عمر بڑھنے سے جڑی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
ایک تحقیق، جو ‘نیچر میٹابولزم’ (Nature Metabolism) میں شائع ہوئی تھی، اس میں دکھایا گیا کہ PCC1 نے چوہوں کی عمر اور صحت میں نمایاں بہتری پیدا کی۔
لونوی بائیو سائنسز کا دعویٰ ہے کہ اگر اس گولی کو صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو انسان 100 سے 150 سال تک کی عمر پا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چوہوں پر ہونے والی کامیابیوں کو براہِ راست انسانوں پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال اس گولی کے انسانوں پر اثرات ثابت کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز (طبی آزمائشوں) کی ضرورت ہے۔
عمر رسیدگی کے شعبے میں ہونے والی یہ پیش رفت انتہائی دلچسپ ہے، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فی الحال ایک تجرباتی پراڈکٹ ہے نہ کہ زندگی بڑھانے کا ثابت شدہ علاج۔ جب تک مستند انسانی ٹرائلز کے نتائج سامنے نہیں آتے، اسے "امر ہونے والی گولی” قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
کیا انسان 150 سال تک زندہ رہ سکے گا؟ چینی کمپنی نے ‘اینٹی ایجنگ’ گولی ایجاد کرلی

