مشرقِ وسطیٰ دہک اٹھا: ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ، جوابی حملوں سے خطے میں جنگ کے بادل چھا گئے
یروشلم/تہران: مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کا معاہدہ اس وقت دھواں بن کر اڑ گیا جب ایران نے اسرائیل پر براہِ راست میزائلوں کی بارش کر دی، جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کے مختلف شہروں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے اچانک حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل داغ دیے۔ اسرائیل بھر میں سائرن بج اٹھے اور شہری جان بچانے کے لیے پناہ گاہوں کی طرف بھاگتے رہے۔
اسرائیلی جوابی کارروائی: اسرائیلی فوج نے ایران کے شہروں اصفہان، تبریز اور تہران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی مغربی فضائی حدود کو ہنگامی بنیادوں پر بند کر دیا ہے۔
کشیدگی کے پیشِ نظر تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت عراق اور شام نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس سے خطے میں فضائی سفر مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔
سفارتی کوششیں اور ٹرمپ کا ردعمل
اس بحرانی صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون کرکے واضح کیا ہے کہ وہ مزید جوابی کارروائی نہ کریں۔ صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ اسرائیل کے یہ حملے امریکا سے مشاورت کے بغیر کیے گئے۔
دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب، قطر، فرانس اور دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے ہنگامی رابطے کیے ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا فوری خاتمہ کیا جائے، ورنہ ردعمل کا دائرہ کار پورے خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات تک پھیل سکتا ہے۔
خطے میں جاری اس تنازع نے عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایرانی گرفت مضبوط ہونے اور ناکہ بندی کے خدشات کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی لائنیں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں پہلے ہی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائیاں اور حزب اللہ کا مؤقف، جنگ بندی کے لیے ہونے والی تمام تر سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ نیتن یاہو اپنی حکومت بچانے اور شمالی سرحدوں پر سیکیورٹی کے لیے دباؤ میں ہیں، جبکہ ایران کا "جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرنے” کا مطالبہ مذاکرات کی میز پر سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی آگ میں گھرا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ خطے کو مکمل تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے پسِ پردہ رابطوں پر مرکوز ہیں۔
جنگ بندی کے بعد پہلی دفعہ اسرائیل ایران کے ایک دوسرے پر میزائل حملے، تہران ائیرپورٹ ،عراق کی فضائی حدود بند


