واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ امریکا کے طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کریں، جبکہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ ان ہی کا ہوگا۔
ٹرمپ نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا:نیتن یاہو کے پاس کوئی اور اختیار نہیں ہوگا۔ فیصلے میں کرتا ہوں، تمام فیصلے میں ہی کرتا ہوں، وہ فیصلے نہیں کرتے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کی جانب سے اسرائیل پر 4 مرحلوں میں بیلسٹک میزائل داغے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ حملہ گزشتہ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی سب سے سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حملے سے تہران کے ساتھ جاری مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے اور اس کا معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا:اس سے معاہدے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ مزید کہا:دیکھتے ہیں معاملات کہاں جا کر رکتے ہیں، لیکن ان حملوں سے عملی طور پر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ان کے بقول موجودہ کشیدگی مذاکراتی عمل پر اثرانداز نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 نے پیر کو رپورٹ کیا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں فوری کارروائی مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

