سکھر ( رپورٹ/عبد الرحمان راجپوت )
سکھر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث برف کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض دکاندار اور سپلائرز مبینہ طور پر ناجائز منافع خوری میں مصروف ہوگئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق جو برف چند روز قبل 20 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب تھی، وہ اب بلیک میں 80 سے 100 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سکھر میں حالیہ دنوں میں شدید گرمی اور سخت موسمی حالات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ شہریوں نے کہا کہ ایک طرف بجلی کی بندشوں اور شدید گرمی نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، دوسری جانب برف کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور غریب خاندان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جو مہنگے داموں برف خریدنے پر مجبور ہیں۔شہری، سماجی حلقوں اور تاجروں نے ڈپٹی کمشنر سکھر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ برف کی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا جائے،

